سرکاری ریکارڈ میں ہیر پھیر،کروڑوں کی کرپشن،تحقیقات کا حکم،سیل سرٹیفکیٹ منسوخ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)مختیار کار بدین کی آفس میں سرکاری ریونیو ریکارڈمیں بدین شہر میں دیہ سونہر میں کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی 14ہزار 400اسکوائر فٹ کا جعلی کھاتہ درج کرکے جعلسازی کے ذریعے سیل سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے انکشاف کے بعد اسسٹنٹ کمشنر بدین نے جعلی کھاتہ داخلہ اور سیل سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کا حکم جاری کرکے اس فراڈ میں ملوث محکمہ ریونیو کے اہلکاروں اور قبضہ مافیا کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے محکمہ روینیو بدین کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کے ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کے اس جعلسازی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون بدین کا ایک سینئر کلرک اور اس کا بھتیجا جو بئراج مختیار کار بدین میں کلرک ہے وہ اور دو تپیدار ملوث ہیں جو قبضہ مافیا سے لاکھوں روپے رشوت لیکر سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرکے کئی سال پرانی تاریخوں میں زمین اور پلاٹس کے جعلی کھاتے درج کرکے جعلی سیل سرٹیفکیٹ جاری کراتے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کے اے ڈی سی ون بدین کے کلرک اور بیراج مختیار کار آ فیس کے مذکورہ کلرک جو دونوں چچہ بھتیجا ہیں نے تحصیل بدین کی دیھ لائو تحصیل بدین میں پاک آ رمی کے رٹائرڈ کیپٹن علی اکبر شاہ مرحوم کی ایک سو دو ایکڑ اراضی زرعی زمین کا کپٹن علی اکبر شاہ مرحوم کی بیوی عالمزادی کی ہم نام پنگریو کی ایک عورت عالمزادی کو کیپٹن اکبر شاہ کی بیوی ظاہر کر کے زمین کا جعلی ٹی او فارم جاری کردیا اور کیپٹن کی بیوی کی ہم نام عورت عالمزادی سے بیراج مختیار کے کلرک کے چھوٹے بھائی کے نام جعلی پاور آف اٹارنی بناکر مختیار کار بدین اور سپر وائزر اور تپیدار سے ملی بھگت کرکے زمین کا سیل سرٹیفکیٹ جاری کرالیا جو اسسٹنٹ کمشنر بدین کو دستخط کے لیئے بھیج دیا لیکن اسسٹنٹ کمشنر بدین نے اس زمین کا تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم کیا اور جب مذکورہ زمین کا رکارڈ پیش کیا گیا تو رکارڈ میں کیپٹن علی اکبر شاہ کی ہم نام عالمزادی کے شناختی کارڈ میں تاریخ پیدائش 1جنوری 1975 درج تھی جبکہ کیپٹن علی اکبر مرحوم کو زمین 1976-77 میں الاٹ ہوئی ہے اس وقت کیپٹن علی اکبر کی بیوی کی ہم نام عورت عالمزادی کی عمر دو سال تھی جس کی بنیاد پر اسسٹنٹ کمشنر بدین نے بیراج مختیار کار بدین سے ٹی او فارم جاری کرنے کی تحقیقات کرکے جب رپورٹ طلب کی تو بیراج مختیار کار نے عالمزادی کے نام جاری ہونے والے زمین کے ٹی او فارم کو جعلی قرار دیکر کینسل کر کے 12 نومبر 2025 پر رپورٹ اسسٹنٹ کمشنر بدین کو بھیج دی ہے لیکن پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھی سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیر جعلسازی میں ملوث اے ڈی سی ون بدین کے اور بیراج مختیار کار کے کلرک اور تپیداروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے دوسری طرف اسسٹنٹ کمشنر بدین کی جانب سے بدین کی دیھ سونہر کی سرکاری اراضی چودہ ہزار چار سو اسکوائر فٹ کا جعلی کھاتہ اور سیل سرٹیفکیٹ مسترد کرنے کے باوجود اے ڈی سی ون کے مذکورہ کلرک اور اس کے بھتیجے بیراج مختیار کار آ فیس بدین کے مذکورہ کلرک نے دیھ سونہر کی اس سرکاری چودہ ہزار اسکوائر فٹ اراضی کے چار ہزار اسکوائر فٹ اراضی پر قبضہ کرکے اس پر چار دیواری کھڑی کرکے پیشہ ور قبضہ مافیا کے لوگ بٹھا دیئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر بدین کے حکم پر اسسٹنٹ کمشنر بدین نے قابضین کو 24 مارچ تک سرکاری اراضی پر سے قبضہ ختم کرنے کا نوٹیس جاری کیا ہے لیکن پیشہ ور قبضہ مافیا کے افراد نے وہ نوٹیس ریڈیو کرنے سے انکار کردیا ہے اسی طرح ڈی سی اے ڈی سی ون اور اسسٹنٹ کمشنر بدین اپنے ہی محکمے کے اہلکاروں اور پیشہ ور قبضہ مافیا کے آ گے بے بس نظر آ ر ہے ہیں



