تھرپارکر پولیس کو کون استعمال کر رہا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری کا سندھ حکومت سے سوال, رپورٹ طلب

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی)پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کا غصہ پ پ خاتون رہنما سمترا منجانی کے گھر پر پولیس چھاپے کے معاملے پر ایس ایس پی محمد شعیب میمن کی بدلی اور پولیس پارٹی کی معطلی کے باوجود کم نہ ہو سکا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ تھرپارکر میں پولیس کو کون استعمال کر رہا ہے، اور فوری تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔
دوسری جانب فریال ٹالپر نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چھاپے کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ چھاپے کا حکم کس نے دیا اور فوری رپورٹ پیش کی جائے۔
اس سے قبل متاثر پیپلز پارٹی رہنما تھرپارکر سمترا منجیانی اور اشوک چوہان نے پارٹی قیادت سے اپیل کی تھی کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ آیا کسی بااثر وڈیرے نے سمترا منجانی کے گھر پر چھاپے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔
واقعے کے بعد عبداللہ میمن کو نیا ایس ایس پی تھرپارکر مقرر کر دیا گیا ہے، جنہیں جامع تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سمترا منجانی کے گھر پر چھاپے اور گرفتاری کے معاملے میں تھرپارکر کے بعض وڈیروں اور کچھ منتخب نمائندوں کی گہری دلچسپی سامنے آئی ہے، جو مبینہ طور پر پولیس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، تاہم وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے۔
دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ صحافیوں کے درمیان اختلافات کے باعث بعض صحافیوں کے خلاف محاذ قائم کیا گیا تھا، جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔



