حسد کی آگ میں جلتے اسرائیل اور چند خلیجی ممالک کو امن کھٹکنے لگا، صلح کی کوششوں کے خلاف محاذ گرم!

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ
مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں سے اب ایسی سنسنی خیز خبریں چھن کر سامنے آ رہی ہیں جنہوں نے عالمی سفارت کاری کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ باوثوق ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ-ایران امن مذاکرات کی راہ میں بعض عرب ممالک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آ گئے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ ممالک اس صلح کے قطعی حق میں نہیں ہیں، کیونکہ انہیں شدید خدشہ ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پرانی دشمنی ختم ہو گئی اور وہ ایک دوسرے کے قریب آ گئے، تو خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔
وال اسٹریٹ جنرل اور پینٹاگون کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور چند مخصوص خلیجی ریاستیں اس وقت "اب نہیں تو کبھی نہیں” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ایران کی فوجی طاقت کو کچلنے کا آخری اور بہترین موقع ہے، اور اگر اس وقت سمجھوتہ ہو گیا تو ایران خطے میں ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ‘جنگ بندی’ کے بجائے ‘منطقی انجام’ پر توجہ دیں تاکہ تہران کا اثر و رسوخ مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، پاکستان اور ترکی اس صلح کے سب سے بڑے حامی بن کر ابھرے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی انتھک کوششوں نے ان عرب ممالک کے تحفظات کے باوجود امن کا راستہ نکالنے کی ٹھانی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان اس ‘طاقت کے توازن’ کو برقرار رکھتے ہوئے صلح کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نیا رخ ہوگا بلکہ فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم کے لیے ‘نوبل امن انعام’ کی راہ بھی ہموار کر دے گا۔
مزید تفصیلات کے لیے سینئرصحافی توصیف احمد خان کی یہ ویڈیو دیکھیں:




