امن ثالثی :شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ کے ” گریٹ فرینڈ” قرار

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ

​عالمی سفارت کاری کے افق پر پاکستان کا ستارہ ایک بار پھر چمک اٹھا ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری خوفناک جنگ کو رکوانے کے لیے دنیا کے سب سے اہم ترین ‘امن ثالث’ کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ سنسنی خیز سفارتی کامیابی کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف شہباز شریف کو اپنا "عظیم دوست” قرار دیا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے ان کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مشن کی توثیق بھی کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی جانب سے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو اس وقت بڑی تقویت ملی جب صدر ٹرمپ نے وزیرِ اعظم پاکستان کی سوشل میڈیا پوسٹ کو ری ٹویٹ کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اب جنگ کا خاتمہ صرف اسلام آباد کے راستے ہی ممکن ہے۔

​انکشاف ہوا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست رابطے کر کے انہیں اس تاریخی بیٹھک پر آمادہ کیا ہے، جس کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر عالمی وفود اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے بڑے ممالک اس بحران کے حل میں ناکام نظر آ رہے تھے، شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین سفارتی قوت کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا شہباز شریف کی تعریف کرنا اور انہیں اس بڑے مشن کا مرکز بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت عالمی سطح پر انتہائی معتبر تسلیم کی جا رہی ہے اور اس مشن کی کامیابی کا سہرہ براہِ راست شہباز شریف کے سر سجے گا۔

​مزید تفصیلات کے لیےسینئر صحافی گوہر بٹ کی یہ ویڈیو دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button