سڑک کنارے کھڑی سنہری لاشیں اور بے ہوش اربابِ اختیار

تحریر:نہال معظم
شہر کی چکاچوند روشنیوں میں کچھ مناظر ایسے بھی ہوتے ہیں جو آنکھوں کو نہیں، دل کو زخمی کر دیتے ہیں۔ اس مرتبہ عید کی خوشیوں میں ایک دوسرے سے ملنے کے لیے گھر سے نکلتے ہی بازاروں اور سڑکوں پر رونق کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے “سنہرے انسان” بھی دکھائی دیے جو بظاہر تفریح کا حصہ لگتے ہیں، مگر حقیقت میں ایک خاموش نوحہ ہیں ،ایسا المیہ جس پر خاموشی خود جرم بن جاتی ہے۔ کوئی کیوں اس پر بات نہیں کر رہا۔
مغربی معاشروں میں بھیک مانگنے کا انداز مختلف ہے۔ وہاں غربت بھی کسی حد تک خودداری کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آتی ہے۔ کوئی گٹار بجا کر اپنی محنت کا معاوضہ لیتا ہے، کوئی پتلیاں نچا کر مسکراہٹیں بانٹتا ہے، اور کوئی خود کو مجسمے کی صورت میں ڈھال کر چند سکے کما لیتا ہے۔ یہ سب ایک فن کے طور پر دیکھا جاتا ہےجہاں اختیار بھی ہوتا ہے اور شعور بھی۔ لیکن ہمارے ہاں کہانی مختلف ہے۔
یہاں جب مغرب کا کوئی رجحان جوں کا توں نقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اپنی روح کھو بیٹھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں “سنہرے مجسم انسانوں” کا یہی تصور ہمارے شہروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پہلے یہ منظر شاذونادر تھا، اب بڑے شہروں کی سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں میں عام ہوتا جا رہا ہے۔
دور سے دیکھیں تو یہ ایک فن محسوس ہوتا ہے،سونے یا چاندی کے رنگ میں رنگا ہوا ایک انسان، ساکت کھڑا، جیسے وقت تھم گیا ہو، مگر قریب جائیں تو یہ جادو ٹوٹ جاتا ہے اور آنکھیں پتھرانے لگتی ہیں۔ وہ انسان فنکار نہیں، ایک زندہ لاش ہے۔
دل تب واقعی دہل جاتا ہے جب انہی “مجسموں” میں تین، چار سال کے معصوم بچے بھی نظر آتے ہیں۔ ننھی ٹانگیں تھکن سے کانپ رہی ہوتی ہیں، بازو اکڑ چکے ہوتے ہیں، چہرہ دھوپ میں جھلس رہا ہوتا ہے۔ خارش ہو رہی ہو، سانس گھٹ رہی ہو، مگر چند سکوں کے لیے حرکت کرنا بھی منع ہے۔ یہ منظر کسی تہذیب کا حصہ نہیں بلکہ انسانیت کے زوال کی کھلی تصویر ہے۔
سوال یہ نہیں کہ یہ لوگ وہاں کیوں کھڑے ہیں، سوال یہ ہے کہ انہیں وہاں کھڑا کون کر رہا ہے۔ کیا یہ وہی بھکاری مافیا نہیں جو پہلے بچوں اور بوڑھوں کو چوراہوں پر بٹھا کر ان سے کمائی کرواتا تھا؟ فرق صرف اتنا ہے کہ اب طریقہ بدل گیا ہے، چہرہ بدل گیا ہے، مگر استحصال وہی ہے،بس اب ذرا مہذب لبادے میں چھپ کر۔
ہم میں سے اکثر لوگ ان “سنہرے انسانوں” کو دیکھ کر ترس کھا کر چند سکے دے دیتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم نے ایک نیکی کی، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یہ چند روپے اس بچے کے ہاتھ میں نہیں، اس مافیا کی جیب میں جاتے ہیں جو اسے زہر آلود رنگ میں لپیٹ کر سڑک پر کھڑا کرتا ہے۔
یہ ترس نہیں، اس ظلم کی مالی مدد ہے، یہ ہمدردی نہیں بلکہ استحصال کی توثیق ہے۔
یہ آرٹ نہیں، استحصال ہے، یہ فنکار نہیں، قیدی ہیں۔
یورپ میں اگر کوئی ایسا فنکار ہوتا بھی ہے تو وہ مخصوص میک اپ یا محفوظ پگمنٹس استعمال کرتا ہے اور پھر بھی ان کے نقصانات پر بحث جاری رہتی ہے، مگر ہمارے ہاں صنعتی پینٹ اور کیمیکل بلاتامل انسانی جسم پر مل دیے جاتے ہیں۔ سر تا پیر زہریلے رنگ میں ڈوبے یہ بچے اور نوجوان اپنی جلد، آنکھوں، پھیپھڑوں، حتیٰ کہ زندگی تک کو داؤ پر لگائے کھڑے ہیں۔ نہ کوئی نگرانی ہے، نہ کوئی قانون، نہ کوئی روک ٹوک، اور یہ خاموشی خود ایک جرم بن چکی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اس دھوکے کو پہچانیں۔ ہر سنہرا مجسمہ کوئی فنکار نہیں بلکہ ایک مجبور انسان ہے جسے حالات اور مافیا نے اس حال تک پہنچایا ہے۔ ان پر ترس کھانا دراصل ان کی زنجیروں کو مضبوط کرنا ہے۔ خدارا، ہوش کے ناخن لیں۔ اگر واقعی انسانیت سے ہمدردی ہے تو ان کو پیسے دینا بند کریں، انہیں مجسمہ بننے پر مجبور نہ کریں بلکہ انہیں انسان کی طرح جینے کا موقع دیں۔
اور ریاست، انتظامیہ اور اربابِ اختیار کے لیے یہ صرف ایک منظر نہیں بلکہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ کب تک یہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہوتا رہے گا اور اربابِ اختیار بھی اور عوام بھی،خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ یہ صرف چند سنہرے مجسموں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھ نہ کھولی تو کل سڑکوں پر صرف سنہری نہیں بلکہ نیلے ،پیلے ہر رنگ کے “زندہ لاشے” کھڑے ہوں گے، اور ہم انہیں فن سمجھ کر تالیاں بجاتے رہ جائیں گے۔



