نور خان ایئر بیس پر امریکی طیارے کی لینڈنگ،خفیہ مذاکرات کے15نکات اور اسرائیل کی اڑنگیاں

اسلام آباد/واشنگٹن/تہران(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے مرکزی کردار کی حتمی تصدیق اس وقت ہوئی جب امریکی فضائیہ کا انتہائی خصوصی طیارہ سی 40 بی کلپر واشنگٹن کی اینڈریوز ایئر بیس سے اڑ کر خاموشی کے ساتھ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور نور خان ایئر بیس پر لینڈ کر گیا ہے کیونکہ فلائٹ ریڈار ڈیٹا نے اس اہم ترین لینڈنگ کی تصدیق کر دی ہے اور ذرائع کے مطابق اس طیارے میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر یا صدر ٹرمپ کے انتہائی قریبی نمائندے سوار ہیں جو تہران سے آنے والی ایرانی قیادت کے ساتھ اسلام آباد میں بیک چینل مذاکرات کے لیے پہنچے ہیں جبکہ ان مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی اب باضابطہ اعتراف کر لیا ہے کہ انہیں دوست ممالک یعنی پاکستان، ترکی اور مصر کے ذریعے امریکہ کے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن کا جواب ایرانی اصولوں کے مطابق دیا جا رہا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی 30 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو نے ان مذاکرات کی بنیاد رکھی ہے جس میں 15 مختلف امن تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جبکہ فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کے لیے فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم اس پورے عمل میں اسرائیل ایک سپوائلر کے طور پر سامنے آیا ہے اور نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ مذاکرات کی کامیابی تک ایران پر حملے جاری رہیں گے جس کے نتیجے میں ایران کے انرجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر یہ حملے نہ رکے تو وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے آئل اور گیس سیکٹر کو نشانہ بنائے گا اور امریکہ سے 500 بلین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے تاکہ حالیہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔
نور خان ایئر بیس پر امریکی وفد کی آمد، خفیہ مذاکرات کے 15 نکات اور اسرائیل کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی مکمل سنسنی خیز تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ وی لاگ اس لنک پر ملاحظہ کریں




