پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز،بوجھ عوام پر نہ ڈالیں،صدر کا بڑا حکم

آباد/واشنگٹن/تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران اور امریکاکے درمیان25روزہ خونریز جنگ کے بعد اب مذاکرات کی میز سجنے کو ہے جس کیلئے ایران نے6تزویراتی (Strategic) شرائط رکھ دی ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے 15 نکات سامنے آئے ہیں .ایرانی شرائط میں سرفہرست دوبارہ جنگ نہ ہونے کی عالمی ضمانت، خطے سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ، جنگی نقصانات کا بھاری ہرجانہ، تمام محاذوں پر اسرائیلی حملوں کی بندش، ابنائے ہرمز کے لیے نیا قانونی ڈھانچہ اور ایران مخالف میڈیا کے خلاف کارروائی شامل ہے .دوسری جانب صدر ٹرمپ نے 5 روزہ یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور امریکی معیشت پر پڑنے والا دباؤ بتایا جا رہا ہے.
پاکستان اس وقت عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے اور دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں فریقین کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے اسرائیل کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی تو پاکستان کے لیے میزبانی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے ۔ ادھر ملک کے اندرونی حالات پر بھی جنگ کے گہرے سائے منڈلا رہے ہیں؛ پنجاب حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ تیل کے بحران اور جنگی حالات کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں ‘ورک فرام ہوم’ اور چھٹیوں کی پالیسی کو 15 اپریل تک بڑھا دیا جائے ۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی وفاقی وزراء کو ہدایت کی ہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ غریب عوام پر نہ ڈالا جائے .




