ڈیپلو پولیس کی بغیر ایف آئی آر کے پی پی رہنماؤں کے گھر پر چھاپہ، بدسلوکی اور تلاشی کا الزام

تھرپارکر)رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی لیڈیز ونگ ضلع تھرپارکر کی صدر سمترا منجیاڻي اور پی پی تعلقہ جنرل سیکریٹری اشوک کمار چوہان کے گھر پر ڈیپلو پولیس نے دوپہر کے وقت اچانک چھاپہ مارا اور گھر میں داخل ہوگئی۔ اس موقع پر سمترا منجیاڻي کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، انہیں دھکے دے کر تذلیل کا نشانہ بنایا گیا اور پورے گھر کی تلاشی لی گئی۔
گھر میں اشوک چوہان کی عدم موجودگی پر ایس ایچ او ڈیپلو بداخلاقی کی اور دھمکیاں دیتا ہوا واپس چلا گیا۔
اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی پی رہنما سمترا منجیاڻي نے ڈیپلو پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس بغیر وارنٹ، بغیر ایف آئی آر اور بغیر لیڈیز پولیس کے گھر میں داخل ہوئی، میرے ساتھ بدسلوکی کی اور دھمکیاں دے کر چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے پولیس سے پوچھا کہ اشوک کا کیا جرم ہے تو ایس ایچ او نے کہا کہ اشوک نے پولیس کے خلاف سوشل میڈیا پر لکھا ہے اور ہمیں ایس ایس پی کا حکم ہے کہ اسے گرفتار کریں۔
انہوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ ڈیپلو پولیس کی اس کارروائی کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پارٹی کارکن محفوظ نہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیالا اشوک کمار چوہان نے کہا کہ تھرپارکر میں 19 گریڈ کے ڈاکٹر خودکشیاں کر رہے ہیں، ہر طرف بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور منشیات کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں، لیکن جب ہم پولیس کے خلاف بات کرتے ہیں تو ایس ایس پی کو غصہ آ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی صحافیوں سمیت ہر مظلوم کی آواز کو طاقت کے زور پر دبانا چاہتا ہے، جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔



