سول اسپتال مٹھی میں گائیں، مرحوم شیخ کے خلاف شوکاز نوٹس اور دھمکیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے) تھرپارکر ضلع کے ہیڈکوارٹر مٹھی کی سول اسپتال کے وارڈز میں گایوں کا داخل ہونا انتہائی افسوسناک عمل تھا۔ اس حوالے سے ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر مرحوم ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا کہ ان کی ڈیوٹی کے دوران گائیں اسپتال میں کیسے داخل ہوئیں، اور اسی کو جواز بنا کر سندھ سیکریٹریٹ سے ان کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کروایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی انکوائری اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ہریش جگانی اور گیٹ پر تعینات گارڈز اور چوکیداروں سے ہونی چاہیے تھی، مگر حیرت ہے کہ ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ گائیں اسپتال میں کیسے داخل ہوئیں۔ ایک مصروف ڈاکٹر مریضوں کے علاج پر توجہ دے یا گائیں بھگائے، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ مزید ذرائع کا کہنا ہے کہ گایوں کو جان بوجھ کر بیک ڈور سے اندر داخل کیا گیا، اور جنہوں نے داخل کیا انہی نے ویڈیوز بھی بنائیں، شور مچایا اور شکایات بھی کیں، جس کا ذکر مرحوم ڈاکٹر نے اپنے وصیت نامے میں بھی کیا ہے۔

شہر کی سیاسی و سماجی شخصیات اور سماجی کارکن نوجوانوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرحوم ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے اور کروانے والوں، اور گائیں اسپتال میں لا کر ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔ اسپتال کے حلقوں نے زور دیا ہے کہ یہ معاملہ ڈاکٹر شیخ کی خودکشی سے جڑا ہوا ایک اہم پہلو ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے مطابق اگر شوکاز نوٹس کے معاملے کی مکمل چھان بین کی گئی تو خودکشی کے اصل ذمہ دار بھی سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ وہ 300 بیڈ کے اسپتال میں مریضوں، عملے اور علاج کی ذمہ داری رکھتے تھے، نہ کہ گایوں کی نگرانی کی۔

گریڈ 19 کے افسر کے خلاف کارروائی کا اختیار صرف چیف سیکریٹری کے پاس تھا، جبکہ 14 دن کی مہلت دی گئی تھی، اور 1973 کے سروس رولز کے تحت انہیں کارروائی کی دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔

اسپتال کے چوکیداروں، مالیوں، پٹیوالوں، سپروائزرز اور گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button