ماتلی:شہری کا آئس کے نشے میں مبتلا بیٹے سے لاتعلقی کااعلان،اعلیٰ حکام سے منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

ماتلی (رپورٹ ذیشان احمد گدی /جانو ڈاٹ پی کے) ماتلی میں آئس جیسے خطرناک نشے کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پولیس اس کی فروخت اور پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے اور آئس کے عادی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ڈیلرز کھلے عام سرگرم ہیں جس کے باعث شہریوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معاشرہ شدید مشکلات کا شکار ہے فاضل ٹاؤن ماتلی کا رہائشی اور چنگچی رکشہ چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والا محمد مشتاق بٹ اپنے پُرسوز بیان کے ساتھ ماتلی پریس کلب پہنچ گیا جہاں اس نے اپنے بیٹے غلام مہر عرف گاما کے خلاف شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا بیٹا آئس کے خطرناک نشے کا عادی ہو چکا ہے اور نشے کی لت پوری کرنے کے لیے گھر کا سامان تک فروخت کر چکا ہے محمد مشتاق بٹ نے کہا کہ اس کا بیٹا نشے کے پیسوں کے حصول کے لیے اسے تنگ کرتا ہے اور منع کرنے پر جھگڑا اور مارپیٹ پر اتر آتا ہے جس سے پورا گھرانہ ذہنی اذیت کا شکار ہے اور اس نے مجبوراً اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب اس کا غلام مہر عرف گاما سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہے گا اور اگر کوئی شخص اس کے بیٹے کے ساتھ کوئی مالی لین دین کرتا ہے تو اس کے نفع یا نقصان کا وہ خود ذمہ دار ہوگا واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران ماتلی میں یہ تیسرا واقعہ ہے جب کسی والد نے آئس کے عادی بیٹے سے تنگ آ کر پریس کلب کے ذریعے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے جبکہ علاقہ مکینوں کے مطابق آئس کے نشے نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اس کے باعث نہ صرف عادی افراد بلکہ ان کے والدین بہن بھائی اور پورے خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہیں اور ماتلی میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو تاحال مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کیا جا سکا ہے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ماتلی ضلع بدین کا اہم شہر ہونے کے باوجود منشیات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے جبکہ ماضی میں اس علاقے سے اعلیٰ پولیس افسران بشمول سابق آئی جی سندھ کا تعلق بھی رہا ہے تاہم اس کے باوجود منشیات کے خلاف مضبوط حکمت عملی اور مؤثر کریک ڈاؤن نہیں کیا جا سکا اس لیے اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر آئس اور دیگر منشیات کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ڈیلرز کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کر کے نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جائے۔



