یو اے ای کا امریکاکیساتھ ہنگامی دفاعی معاہدہ
مسجد اقصی میں نماز عید پر پابندی

تہران/واشنگٹن/دبئی(جانوڈاٹ پی کے)عید الفطر کے پرمسرت موقع پر جب پوری دنیا میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں،ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے اس وقت ایک نیا اور انتہائی ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے جب ایران نے امریکی فضائی قوت کے غرور کی علامت کہلائے جانے والے ففتھ جنریشن کے اسٹیلتھ جنگی طیارے ایف 35 کو مار گرانے کا سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے جس کی تصدیق اب خود عالمی میڈیا اور امریکی ذرائع بھی کر رہے ہیں۔
غیر متوقع کارروائی نے پوری دنیا کے دفاعی ماہرین کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ آخر ایران نے وہ کون سی خفیہ اور جدید ریڈار ٹیکنالوجی استعمال کی جس نے اس ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے طیارے کو نہ صرف ڈھونڈ نکالا بلکہ اسے کامیابی سے نشانہ بھی بنایا جس پر بعض مبصرین اسے گمنام ہیروز کی مدد یا ایک پراسرار کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ بلوم برگ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں اب تک امریکہ کے 16 سے زائد جنگی طیارے اور جدید ڈرونز تباہ ہو چکے ہیں جبکہ اس کے دو عظیم الشان بحری بیڑوں، یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس فیلڈ کو ایرانی حملوں میں اس قدر شدید نقصان پہنچا ہے کہ وہ مرمت کے لیے ایرانی حدود سے کوسوں دور بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی تزویراتی تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی ہے جب متحدہ عرب امارات نے امریکہ کے ساتھ 16 ارب ڈالر کے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت اسے پیٹریاٹ میزائل اور جدید جنگی ہیلی کاپٹر فراہم کیے جائیں گے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اب اس جنگ میں براہِ راست کودنے کی تیاری کر رہی ہیں جبکہ اسرائیل نے بھی اشتعال انگیزی کی انتہا کرتے ہوئے دہائیوں بعد پہلی بار مسجدِ اقصی میں نمازِ عید کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے بعد مسلمانوں نے پرانے شہر کی گلیوں میں نماز ادا کی ہے۔




