ایران نے امریکی فضائی نظام لپیٹ دیا،عالمی معیشت کو100ارب ڈالر کا دھچکا
ایران کے قطر کی معیشت کو بھی ملیا میٹ کردیا

واشنگٹن/دوحہ/اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے امریکہ کے لیے ایک بھیانک خواب کی صورت اختیار کر لی ہے جہاں امریکی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق ایران اب تک امریکہ کے 16 جدید لڑاکا طیارے اور 10 ریپر ڈرونز کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر چکا ہے جو کہ امریکی دفاعی تاریخ کا ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان تصور کیا جا رہا ہے۔ ان پے در پے نقصانات اور تذلیل کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مزید تین بحری بیڑے مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن اور دیگر جنگی جہاز ایرانی میزائلوں کے خوف سے اب ایرانی حدود سے ایک ہزار میل دور پیچھے ہٹ چکے ہیں تاکہ مزید تباہی سے بچ سکیں۔
قطر کی سب سے بڑی راس لفان گیس فیلڈ پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں قطری معیشت کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں قطر کو 100 ارب ڈالر کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا جس سے پاکستان، بھارت، چین اور جاپان جیسے ممالک کو ایل این جی کی سپلائی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان سمیت کینیڈا کے رہنماؤں نے بھی میدان میں آتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوششیں اور بارودی سرنگیں بچھانے کا سلسلہ فوری بند کرے جبکہ پاکستان میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے علماء کرام کو واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی بیرونی جنگ کا اثر پاکستان کے داخلی امن پر نہیں پڑنے دیا جائے گا کیونکہ اگر پاکستان میں امریکی اڈے موجود ہوتے تو آج صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی مگر اب پاکستان کا کردار صرف ایک ثالث کا ہے۔
امریکی طیاروں کی تباہی اور قطر کی معیشت کی کمر ٹوٹنے کی مکمل سنسنی خیز تفصیلات جاننے کے لیے امداد علی سومرو کا یہ وی لاگ اس لنک پر ملاحظہ کریں




