لاڑکانہ: پولیس کو قاتلانہ حملے کی پیشگی اطلاع دینے والی لڑکی سیاہ کاری کے الزام میں قتل

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لاڑکانہ میں پولیس کو قاتلانہ حملے کی پیشگی اطلاع دینے والی لڑکی سیاہ کاری کے الزام میں قتل ہوگئی، گاؤں کی مسجد کے پیش امام کو بھی عید کے کپڑے سلوانے کے بہانے لے جاکر قتل کردیا گیا. نوڈیرو کے قریب کیٹی ممتاز تھانے کی حدود کچے کے گاؤں ڈاتر ڈنو آگانی میں ڈبل مرڈر کی لرزا خیز واردات ہوئی ہے. ملزمان نے 20 سالہ لڑکی سائرہ آگانی اور گاؤں کی مسجد کے پیش امام 45 سالہ حفیظ کھوڑو کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مختلف مقامات پر فائرنگ کرکے قتل کرکے لاشوں کو پھینک فرار ہوگئے. اطلاع ملنے پر پولیس نے پہنچ کر دونوں لاشیں تلاش کرنے کے بعد نوڈیرو اسپتال منتقل کردیں.
پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ سائرہ نے قتل ہونے سے قبل اپنے اوپر ممکنا قاتلانہ حملے کی پیشگی اطلاع 15 ایمرجنسی نمبر پر دی تھی تاہم جب پولیس متعلقہ گاؤں پہنچی تو وہ حملے میں زخمی ہوچکی تھی جس کو اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی. پولیس کا بتانا ہے کہ پیش امام کو قتل کرنے کے بعد لاش کو چھپایا گیا تھا جس کو ہم نے تلاش کرکے اسپتال منتقل کیا ہے.
ادھر سائرہ کے والد احمد بخش کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی کو چچا زاد بھائی شہزادو اور ان کے ساتھیوں نے سیاہ کاری کا الزام دے کر گھر سے باہر گھسیٹ کر لے گئے اور قتل کرکے فرار ہوگئے.
مقتول پیش امام کے بیٹے بلال نے بتایا ہے کہ اس کے والد کو جھوٹا الزام لگاکر قتل گیا، ملزمان نے والد کو عید کے کپڑے سلوانے کا کہکر مسجد سے باہر لے گئے اور قتل کرکے فرار ہوگئے. انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف کیا جائے.



