ایران کی خلیجی ممالک کو براہِ راست دھمکی، خطہ جنگ کے دہانے پر، پاکستان کا ہنگامی اجلاس طلب

تہران / ریاض / دوحہ(جانوڈاٹ پی کے)ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے، جس کے بعد پورا خطہ شدید اضطراب کا شکار ہو گیا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے جاری بیان میں خلیجی ممالک کے شہریوں کو تیل و گیس تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ تنصیبات اب "عالمی استعمار کے مفادات” کی علامت بن چکی ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس پر ہونے والے حالیہ حملوں، خصوصاً جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے، کا جواب انہی اہداف کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔

ایرانی اعلامیے میں سعودی عرب کی سمریف ریفائنری اور الجبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس، متحدہ عرب امارات کی الحسن گیس فیلڈ اور قطر کے مسید صنعتی کمپلیکس کو ممکنہ اہداف کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، جو خطے کی معیشت اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اس وقت شدت آئی جب امریکہ کے بی-2 بمبار طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل ذخیرہ گاہ کو نشانہ بنایا اور بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے۔ اسی دوران جنوبی ایران میں واقع دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ "ساؤتھ پارس” کے بعض حصوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جسے ایرانی حکام نے کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک نے ایران کی دھمکیوں کے بعد اپنی اہم تنصیبات کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی غیر یقینی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہنگامی مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر غور کر رہا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button