ڈی ایچ او تھرپارکر کو دھمکیاں،حکام کو تحریری شکایات،ثبوت ریکارڈ میں رکھے جائیں،ڈاکٹر لیکھراج

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تھرپارکر ڈاکٹر لیکھراج سارنگانی نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے بلیک میلنگ اور دھمکیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ محکمہ صحت میں گریڈ ایک سے چار تک ملازمین کی بھرتی کا عمل 7 اگست 2023 کو اُس وقت کے ضلعی صحت افسر کی جانب سے کیا گیا تھا، اور بی پی ایس 01 سے بی پی ایس 04 تک کی آسامیوں کے لیے اہل امیدواروں کی فہرست اُس وقت کی ضلعی سلیکشن کمیٹی (DSC) نے حتمی شکل دی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اُس وقت نہ تو وہ ڈی ایچ او تھرپارکر تھے اور نہ ہی بھرتیوں کے عمل میں ان کا براہِ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق تھا، لہٰذا اس معاملے میں انہیں دھمکیاں دینا یا بے بنیاد الزامات لگانا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہذب شہری کو ایسا طرزِ عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔

اپنے بیان میں مزید کہا کہ کچھ افراد انہیں واٹس ایپ کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھیج رہے ہیں، جو ایک قابلِ سزا جرم ہے، جس کے حوالے سے ضلعی پولیس حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بھرتیوں سے متعلق کیس پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ، سرکٹ بینچ میرپورخاص میں زیرِ سماعت ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تھرپارکر نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر اعلیٰ حکام سمیت ایس ایس پی تھرپارکر کو بھی درخواست دی گئی ہے کہ متعلقہ قوانین اور پالیسیوں کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button