​72 گھنٹوں میں جنگ کا خاتمہ یا ایٹمی دھماکہ؟

​تہران/ واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے) مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ایک ایسے خونی موڑ پر داخل ہو چکی ہے جہاں اب بقا کی جنگ صرف ایٹمی ڈیٹرنس کے گرد گھومتی نظر آ رہی ہے۔امریکہ نے ابنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے جزیرہ خارق کے قریب B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے 5 ہزار پونڈ وزنی بنکر بسٹر بم گرائے ہیں۔ اس کارروائی میں متحدہ عرب امارات نے بھی امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جس پر تہران نے سخت وارننگ دی ہے کہ ابنائے ہرمز دشمن کے لیے ایسی دلدل ثابت ہوگی جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک دھماکہ خیز بیان دیتے ہوئے نیٹو کے خاتمے کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری طرف فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واضح کیا ہے کہ فرانس اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، چاہے نیٹو ٹوٹ ہی کیوں نہ جائے۔

دفاعی مبصرین کے مطابق ایران اب اپنی نیوکلیئر پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے کسی بھی وقت ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کو حیران کر سکتا ہے، کیونکہ اب یہی وہ زبان ہے جو امریکہ اور اسرائیل کو سمجھ آتی ہے۔

ایران نے علی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر ‘حاج قاسم’ اور ‘خیبر شکن’ میزائلوں کی بارش کر دی ہے۔ حاج قاسم میزائل (رینج 1400 کلومیٹر) نے تل ابیب میں ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنایا ہے، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

​مزید تفصیلات کے لیے معظم فخر کا مکمل وی لاگ دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button