مسجد فاتح میں حجاب پھینکتی خواتین: ایک ویڈیو، تین کہانیاں

نہال معظم
شبِ قدر کی خاموش، نورانی رات… عبادت میں ڈوبے لوگ… اور اسی دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ استنبول کی مسجد فاتح میں شب قدر میں تراویح ادا کرتے مرد نمازیوں پرخواتین نے احتجاجاً اپنے حجاب اتار کر پھینکے۔ چند سیکنڈز کی یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے ایک عالمی بیانیہ بن جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے: اصل میں وہاں ہوا کیا تھا؟
دستیاب رپورٹس اور ویڈیوز کے جائزے سے جو حقیقت سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ چند خواتین نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے اسکارف سر سے اتار کر زمین پر رکھے یا اچھالے۔ یہ عمل نہ تو کسی مذہب بیزاری کا اظہار تھا اور نہ ہی حجاب کے خلاف کوئی تحریک؛ بلکہ اسے ایک علامتی احتجاج کے طور پر کیا گیا، جس کا تعلق فلسطین اور بالخصوص مسجدِ اقصیٰ کی بندش کے معاملے سے جوڑا گیا۔ اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ بعض خواتین نے اس عمل کے بعد یا ساتھ ہی متبادل اسکارف سے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا۔ یعنی مقصد “حجاب ترک کرنا” نہیں بلکہ ایک پیغام دینا تھاجسے بعد میں سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔
مگر جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پہنچی، ایک ہی واقعے سے تین مختلف کہانیاں جنم لے لیتی ہیں—اسلاموفوبک، لبرل، اور مذہبی طبقے کی الگ الگ تعبیرات۔
پہلی کہانی وہ ہے جو اسلاموفوبک یا اینٹی مذہب حلقوں نے گھڑی۔ ان کے نزدیک یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت بن گئی کہ مسلمان معاشرے خود اپنی مذہبی علامات سے دور ہو رہے ہیں۔ حجاب کو ایک “گرتی ہوئی روایت” کے طور پر پیش کیا گیا، اور یوں ایک محدود واقعے کو پوری امت کی ذہنی تبدیلی کا اشارہ بنا دیا گیا۔
دوسری کہانی لبرل اور سیکولر بیانیے کی تھی۔ یہاں یہی ویڈیو “خواتین کی آزادی” کی علامت بن گئی۔ کہا گیا کہ یہ خواتین جبر کے خلاف کھڑی ہو رہی ہیں، اور حجاب کو بطور احتجاج اتارنا ایک طرح کی مزاحمت ہے۔ حالانکہ اصل واقعے میں ایسا کوئی واضح دعویٰ موجود نہیں تھا، مگر تعبیر نے حقیقت کو پیچھے چھوڑ دیا۔
تیسری کہانی خود مذہبی اور قدرے شدت پسند حلقوں نے پیش کی۔ ان کے لیے یہ منظر انتہائی تکلیف دہ تھا۔ شبِ قدر جیسی مقدس رات، مسجد جیسی مقدس جگہ، اور اس میں ایسا عمل،یہ سب کچھ “بے حرمتی” کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ یہاں اصل اعتراض حجاب اتارنے پر کم اور اس عمل کے وقت اور مقام پر زیادہ تھا۔ ان کے نزدیک مسجد کا تقدس اور نظم و ضبط اپنی جگہ ایک حد مقرر کرتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام میں مسجد کبھی بھی صرف عبادت گاہ نہیں رہی بلکہ اس کی حیثیت ایک کمیونٹی سنٹر کی بھی ہے، جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ تعلیم، مشاورت اور سماجی معاملات بھی طے ہوتے ہیں۔ مسجد نبوی اس کی بہترین مثال ہے۔ باجماعت نماز خود ایک سماجی عمل ہے، جو اتحاد، مساوات اور نظم کو فروغ دیتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی مسجد کا ایک روحانی ماحول اور تقدس بھی ہے، جو اسے عام عوامی مقامات سے مختلف بناتا ہے۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جسے ہر گروہ اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر یہ واقعی کوئی بڑی “حجاب بغاوت” یا سماجی انقلاب ہوتا تو عالمی میڈیا جیسے یا اسے نمایاں طور پر رپورٹ کرتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ واقعہ اپنی جگہ محدود تھا، لیکن اس کی تشریح نے اسے غیر معمولی بنا دیا۔
ترکی کے اندر بھی ردعمل یکساں نہیں تھا۔ مذہبی طبقہ ناراض ہوا، لبرل حلقے منقسم رہے، اور عام لوگ زیادہ تر الجھن کا شکار دکھائی دیے۔ گویا خود مقامی سطح پر بھی یہ کوئی واضح بیانیہ اختیار نہ کر سکا، مگر عالمی سوشل میڈیا نے اسے ایک طے شدہ کہانی میں ڈھال دیا۔
اصل مسئلہ یہی ہے: آج کے دور میں حقیقت کم اور اس کی تعبیر زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ ایک ویڈیو صرف ایک واقعہ نہیں رہتی، بلکہ ایک میدانِ جنگ بن جاتی ہے جہاں ہر گروہ اپنی سوچ، اپنا ایجنڈا اور اپنا بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے۔ ہمیں ہر وائرل ویڈیو کو فوراً سچ یا جھوٹ کا درجہ دینے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ اسے کون، کیوں اور کس انداز میں پیش کر رہا ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات اس کے گرد گھومتی ہوئی کہانیاں اصل حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج کے زمانے میں سب سے بڑی جنگ حقیقت کی نہیں، بلکہ بیانیے کی ہے۔



