امریکا کا آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایک پر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ایرانی میزائل سائٹس پر زیرِ زمین بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے طاقتور بموں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع مضبوط میزائل سائٹس پر ’کامیابی کے ساتھ متعدد 5000 پاؤنڈ وزنی زیرِ زمین اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بموں کا استعمال کیا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق ان مقامات پر موجود ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کی بندش کی وجہ سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے ہوا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری تجارتی راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل پہنچایا جاتا ہے۔

تنازع شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کئی بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ ہفتے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کیلئے اپنے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے اندازوں کے مطابق ہر ماہ تقریباً 3000 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں،2025 میں اس راستے سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرا، یہ سالانہ توانائی کی تجارت میں تقریباً 600 بلین ڈالر کے برابر ہے۔

یہ تیل صرف ایران سے ہی نہیں آتا بلکہ دوسرے خلیجی ممالک جیسے عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی آتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تخمینے کے مطابق 2022 میں آبنائے ہرمز سے بہنے والے تقریباً 82 فیصد خام تیل اور مائع ہائیڈرو کاربن ایشیائی ممالک کی طرف روانہ ہوئے، آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکروں کیلئے کافی گہرا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کے بڑے پروڈیوسرز اور ان کے صارفین استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ممالک کو اپنے ساحلی خطوں سے 12 ناٹیکل میل (13.8 میل) تک سمندری حدود کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے،اس کے تنگ ترین مقام پر، آبنائے ہرمز اور اس کی بحری گزرگاہیں مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button