ڈاکٹر خودکشی معاملہ: تحقیقاتی ٹیم مٹھی پہنچ گئی، ملزمان اور ورثاء کے بیانات قلمبند، پولیس پر کیس دبانے کے الزامات

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کے ہیڈکوارٹر شہر مٹھی کی سول اسپتال میں چند روز قبل سرکاری کوارٹر میں مبینہ طور پر خود کو پھانسی دے کر خودکشی کرنے والے گریڈ 19 کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کے کیس میں ڈی آئی جی میرپورخاص کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم مٹھی پہنچ گئی اور باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایس ایس پی میرپورخاص سید فدا حسین شاہ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم میں ایس ایس پی تھرپارکر محمد شعیب میمن، ڈی ایس پی مٹھی ماجد قائم خانی، ڈی ایس پی ڈگھڑی خدا بخش تھیبو اور رینج آفس میرپورخاص کے لیگل سیل کے انچارج انسپکٹر صاحب خان درس شامل ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کے ورثاء مقدمہ درج کرانے کے لیے مٹھی پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ ورثاء کا مؤقف ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں جنہوں نے ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کو مبینہ طور پر تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا اور انہیں خودکشی پر مجبور کیا۔

ورثاء نے الزام عائد کیا کہ مٹھی پولیس نے ان کی مرضی کے بغیر دفعہ 174 کے تحت اتفاقی موت کی رپورٹ درج کر کے کیس کو دبانے کی کوشش کی ہے، جبکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں۔

ادھر تحقیقاتی ٹیم نے ورثاء کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد نامزد افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے ہیں، جن میں ایم ایس ڈاکٹر ہریش جگانی، ڈاکٹر موہن کتری، ڈاکٹر عبدالمالک نہڑیو، میل نرس منٹھار بھیل، میل نرس سردارو بھیل، اسٹور کیپر برکت ہنگورجو اور وارڈ بوائے رجب شامل ہیں۔

دوسری جانب کلوئی شہر میں سماجی رہنماؤں اور شہریوں کی جانب سے ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

جبکہ میرپورخاص بار اور تھرپارکر بار نے مذمتی بیانات جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

ادھر معطل کیے گئے ایس ایچ او قادر بخش بہرانی نے دوبارہ چارج سنبھال لیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button