میرپورخاص: میٹرک و انٹر کے نتائج میں بڑے گھپلے کا انکشاف،2ملزم گرفتار

میرپورخاص (شاھدمیمن) میٹرک و انٹر کے نتائج میں مبینہ بڑے گھپلے کا انکشاف، ہزاروں طلبہ کے نمبر بڑھانے کا اعتراف، دو ملزمان گرفتار،تفصیلات کے مطابق اے ایس پی سٹی قرة العین نے ایس ایچ او امین مری اور تفتیشی افسر عباس علی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی بورڈ کے امتحانی نتائج میں مبینہ بڑے گھپلے کا انکشاف ہوا ہے جہاں تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2021 سے 2025 تک ہزاروں طلبہ کے نمبر مبینہ طور پر رشوت لے کر بڑھائے گئے اور فیل امیدواروں کو پاس کیا گیا پولیس کے مطابق اس معاملے میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور اب تک دو ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے پولیس حکام کے مطابق یہ ایک منظم نیٹ ورک تھا جس میں بورڈ کے مختلف افسران اور اہلکار مبینہ طور پر ملوث ہیں ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ فیل طلبہ کو پاس کروانے کے لیے کم از کم 50 ہزار روپے جبکہ براہِ راست میٹرک یا انٹر کے جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے 4 سے 5 لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے تھے تفتیشی حکام کے مطابق ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ صرف 2023 میں تقریباً 11 ہزار طلبہ کے نمبر بڑھائے گئے جبکہ 2022 میں تقریباً 9 ہزار امیدواروں کے گریڈ تبدیل کیے گئے پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی اور عارضی ہیں جبکہ مکمل ریکارڈ جمع کیا جا رہا ہے گرفتار ہونے والے ملزم اعظم خان جو بورڈ میں اسسٹنٹ کمپیوٹر پروگرامر کے طور پر کام کرتا تھا نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ فیل طلبہ کو پاس کرنے، گریڈ بڑھانے اور جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا کام باقاعدہ طور پر کیا جاتا تھا اس نے انکشاف کیا کہ اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی کردار کنٹرولر انور خانزادہ تھا جو تمام معاملات اور مالی لین دین کو کنٹرول کرتا تھا ملزم کے مطابق اس نیٹ ورک میں سیکریٹ برانچ کے سپرنٹنڈنٹ سمیت دیگر ملازمین بھی شامل تھے جبکہ باہر کے ایجنٹس اور بعض اسکولوں کے منتظمین بھی اس عمل میں سہولت کاری کرتے تھے تحقیقات کے مطابق کچھ اسکولوں کے ذریعے جعلی سرٹیفکیٹ تیار کیے جاتے تھے جن میں دو سرکاری اور دو نجی اسکول شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میٹرک اور انٹر کے ہزاروں جعلی سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے جن کا بورڈ کے ریکارڈ میں کوئی اندراج موجود نہیں مزید یہ کہ کچھ غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں کو بھی مبینہ طور پر جعلی تعلیمی اسناد جاری کی گئیں جن کی بنیاد پر بعد میں ڈومیسائل اور شناختی کارڈ حاصل کیے گئے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس گھپلے میں کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانی کا امکان ہے اور رقم ایجنٹس اور دیگر ذرائع کے ذریعے وصول کی جاتی تھی تفتیشی افسران کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک ایک “پیرامڈ” کی شکل میں کام کر رہا تھا جس کی نچلی سطح کے افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ اب تحقیقات کا دائرہ اعلیٰ افسران تک بڑھایا جا رہا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے اور مزید شواہد اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں حکام کے مطابق جلد مزید اہم گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button