آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیے کھل گئی، افغانستان میں دہشت گردوں کی جم کر پٹائی

کابل/ اسلام آباد: پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے کابل اور ننگرہار میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ذرائع کے مطابق، کابل میں جس مقام کو نشانہ بنایا گیا، وہ افغان طالبان کی جانب سے ‘ری ہیبیلیٹیشن سینٹر’ (نشئیوں کے علاج کا مرکز) بتایا جا رہا تھا، لیکن حقیقت میں یہ امریکی فوج کا سابقہ کیمپ ‘فینکس’ تھا، جسے اب خودکش بمبار تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ حملے کے بعد اٹھنے والے بلند شعلے اور دھماکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں بھاری مقدار میں بارود اور اسلحہ موجود تھا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا اور غیر ملکی میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ حملے میں معصوم شہری اور مریض مارے گئے، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کو تیار کرنے کے لیے اکثر نشے کے عادی افراد کو ہی استعمال کیا جاتا ہے اور ان کنٹینرز نما ہسپتالوں میں انہیں ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا تھا۔ پاک فضائیہ کی اس کارروائی نے دہشت گردی کا ایک بڑا نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے۔
ایک طرف عسکری محاذ پر کامیابیاں مل رہی ہیں تو دوسری طرف پاکستان کی معاشی سفارت کاری نے بھی دشمن کو حیران کر دیا ہے۔
دنیا بھر میں تیل کی سپلائی ڈسٹرب ہونے کے باوجود، پاکستان کا تیل سے بھرا جہاز ‘ایم ٹی کراچی’ ابنائے ہرمز سے باحفاظت گزر کر پاکستانی ساحل پر پہنچنے والا ہے۔
مزید دھماکہ خیز حقائق کے لیے سینئر صحافی گوہر بٹ کا یہ وی لاگ دیکھیں:




