پیسے جمع کرکے دکان خریدنے کے بعد 12 سالہ بچی نے ماں کو تنخواہ پر کام کیلئے رکھ لیا

شنگھائی(جانوڈاٹ پی کے)ویسے تو 12 سال کی عمر میں بچوں کا زیادہ تر دھیان کھیل کود اور پڑھائی پر ہوتا ہے۔

مگر وسطی چین میں ایک 12 سالہ بچی نے اپنی بچت کو استعمال کرکے ایک دکان کو خریدا اور ماں کو تنخواہ پر کام پر رکھ لیا۔

جی ہاں واقعی صوبہ جیانگشی میں 12 سالہ لی یوئی نے گزشتہ برسوں کے دوران چینی نئے سال کے موقع پر ملنے والی رقم کو خرچ کرنے کی بجائے جمع کیا۔

اس نے 44 ہزار یوآن (17 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) سے زائد رقم کو جمع کیا اور پھر اسے کاروبار میں لگانے کا فیصلہ کیا۔

بچی کا ماننا تھا کہ بینک میں جمع کرانے کے بعد رقم پر ملنے والے منافع کی شرح بہت کم ہے۔

تو اپنے بینک کی جانب جاتے ہوئے اس نے ایک اسٹیشنری کی دکان کے اوپر برائے فروخت کا بینر دیکھا اور اسے خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔

بچی کی ماں نے انتباہ کیا تھا کہ اس کی رقم ڈوب سکتی ہے مگر بچی نے پھر بھی دکان کو خرید لیا۔

فروری میں چین کے نئے سال کے موقع پر بچی نے دکان کو نئے سامان سے بھرا اور کاروبار شروع کر دیا۔

مارچ میں جب اسکول کھل گئے تو بچی نے اپنی والدہ کو ماہانہ 3 ہزار یوآن کی تنخواہ پر رکھ لیا۔

اب یہ بچی سپلائرز سے مذاکرات کرتی ہے، اشیا کی قیمتیں طے کرتی ہے اور کاروباری حکمت عملی طے کرتی ہے جبکہ اس کی ماں روزمرہ کے کاموں کو سنبھالتی ہیں۔

ہر صبح لی یوئی دکان کھولتی ہے، سامان چیک کرتی ہے اور پھر اسکول چلی جاتی ہے۔

اسکول کے بعد وہ دکان میں ہوم ورک کرتی ہے اور پھر شام ساڑھے 8 بجے تک ماں کی مدد کرتی ہے۔

بچی نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹولز کو خود سیکھ لیا ہے تاکہ کاروباری امور کو ان کی مدد سے مکمل کرسکے۔

جب گزشتہ دنوں دکان سے ہونے والی آمدنی میں کمی آئی تو بچی نے چیزوں کی قیمتیں کم کر دیں۔

اس کی یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی اور اشیا کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی کے بعد خریداروں کی تعداد بڑھ گئی۔

ویسے تو بچی نے آمدنی کی تفصیلات نہیں بتائیں مگر دکان پر لگائے جانے والا سرمایہ واپس آچکا ہے۔

بچی کی والدہ نے بتایا کہ اگر بیٹی کی تعلیم متاثر ہوئی تو وہ کاروبار کو روک دیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button