یونیورسٹی آف اوکاڑہ اور نیو ٹیک کا اشتراک: نوجوانوں کو جاب مارکیٹ کے مطابق مہارتیں فراہم کرنے کا نیا منصوبہ

دیپال پور (محمد اسلم بھٹی /جانو ڈاٹ پی کے) یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے نیو ٹیک کیساتھ اشتراک
یونیورسٹی آف اوکاڑہ اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) نے نوجوانوں کوجاب مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کر کے بااختیار بنانے کے لیے تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں باہمی تعاون کے ایک مفاہمتی یادداشت کے(ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔اس معاہدے پر جامعہ اوکاڑہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین اور نیوٹیک کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ آصفہ مقبول نے دستخط کیے، جبکہ جامعہ اوکاڑہ کی ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکیجز ڈاکٹر ایکا ترینا گاوری شیک نے بطور کلیدی گواہ شرکت کی۔ اس موقع پر یو او اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد الیاس محمود، ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ریاض الامین اور ڈپٹی ڈائریکٹر (پریس، میڈیا اینڈ پبلیکیشنز) شرجیل احمد بھی موجود تھے۔ نیوٹیک کے انفارمیشن آفیسر رانا عقیل عباس نے تقریب کے انعقاد اور رابطہ کاری کے فرائض انجام دیے۔تقریب میں وائس چانسلر کی شرکت جامعہ کی جانب سے نوجوانوں میں صنعتوں سے ہم آہنگ مہارتوں کے فروغ کے عزم کا اظہار تھی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نیوٹیک سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اشتراک تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں مدد دے گا اور طلبہ کو جاب مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق عملی تربیت فراہم کرے گا۔معاہدے کے تحت یونیورسٹی کا اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ٹریننگ پرووائیڈر انسٹیٹیوٹ کے طور پر خدمات انجام دے گا۔ اس شراکت داری کا مقصد تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے مواقع کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے جو انہیں ملازمت اور خود روزگار کے بہتر مواقع فراہم کر سکیں۔معاہدے کے مطابق نیوٹیک، جو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں قومی معیار اور پالیسیوں کے تعین کی اعلیٰ ترین ریگولیٹری اتھارٹی ہے، تربیتی پروگراموں کے نفاذ میں سہولت فراہم کرے گا اور ان کی نگرانی کرے گا۔ جامعہ اوکاڑہ اپنے اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے ذریعے نیوٹیک کی ہدایات اور معیارات کے مطابق تربیت فراہم کرے گی۔حکام کے مطابق اس اقدام سے طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے نئی راہیں کھلیں گی، جس کے ذریعے وہ تکنیکی مہارت اور کاروباری صلاحیتیں حاصل کر سکیں گے اور یوں خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ شراکت داری ہنر پر مبنی تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے قومی اقدامات کی حمایت کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔



