پاکستان کی خفیہ انٹیلیجنس کے عالمی سطح پر چرچے

​اسلام آباد/تہران(جانوڈاٹ پی کے) بین الاقوامی صحافتی حلقوں میں ایک سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے جس نے عالمی طاقتوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایرانی صحافی فرشتہ صادقی اور ترک صحافی راغب سویلو کی تحقیقات کے مطابق، ایران کو اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ حملوں سے ٹھیک 24 گھنٹے پہلے جس ملک نے باخبر کیا تھا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان تھا۔

اس انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی انٹیلیجنس نیٹ ورک نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ہونے والی خفیہ عسکری نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتا ہے۔ تجزیہ کار معظم فخر کے مطابق، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنی انٹیلیجنس کی برتری ثابت کی ہو۔ اس سے قبل بھارتی فوج کے ڈپٹی چیف جنرل راہول سنگھ بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی ڈی جی ایم او نے بھارتی ہم منصب کو ان کے ہتھیاروں (Vectors) کی عین پوزیشن اور پراجیکٹس کے بارے میں پیشگی بتا کر انہیں حیران کر دیا تھا۔

پاکستان، ایران، چین اور روس کے درمیان ایک نیا علاقائی بلاک ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے جو کہ سارک (SAARC) جیسی تنظیموں کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے بی ایل اے (BLA) کے کارندوں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کو تہران میں ایک بڑے بم حملے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

​سائبر حملے: "فرشتوں” (پاکستانی سائبر ماہرین) نے اسرائیل کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو ہیک کر کے نیتن یاہو کی موجودگی میں اسکرینوں پر فلسطین کا پرچم اور ترانہ چلا دیا۔

​یہ تمام واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان کی انٹیلیجنس اور دفاعی صلاحیتیں اب ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں وہ عالمی سطح پر بڑے کھلاڑیوں کے نقشے بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مکمل تجزیہ دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button