میرا چہرہ کسی کو نہ دکھایا جائے، مجھے لاوارث دفنایا جائے اور میری قبر کی نشانی بھی مٹا دی جائے،ڈاکٹر کریم کی وصیت

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)فوت ہونے والے ڈاکٹر نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی تھرپارکر کو لکھے گئے خط میں کہا میں، درخواست گزار ڈاکٹر عبدالکریم شیخ ولد حاجی عبداللہ شیخ، چیف میڈیکل آفیسر سول اسپتال مٹھی، نائٹ شفٹ انچارج، اپنے پورے ہوش و حواس میں یہ لکھ کر دے رہا ہوں کہ میں آج تاریخ 14 مارچ 2026 یا کسی بھی وقت خودکشی کر سکتا ہوں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سول اسپتال مٹھی میں سول سرجن ڈاکٹر ہریش جگانی میرے ساتھ انتہائی بدتمیزی اور نامناسب رویہ اختیار کرتے ہیں۔ میں اس کی شکایت سیکریٹری ہیلتھ کراچی اور اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ کراچی کو کر چکا ہوں، مگر سیکشن آفیسر شفیق اوجن، جو گریڈ 19 کے افسران کے معاملات دیکھتا ہے، وہ ڈاکٹر ہریش جگانی کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ مبینہ مالی لین دین کی وجہ سے میری درخواست چیف سیکریٹری اور ہیلتھ سیکریٹری تک نہیں پہنچائی جا رہی۔
یکم مارچ 2026 کی رات تقریباً ایک بجے منٹھار بھیل نامی میل اسٹاف نرس، جو مردانہ وارڈ میں نائٹ شفٹ پر تعینات ہے، نے فون پر مجھے ماں بہن کی گالیاں دیں۔ اس گالیوں والی آڈیو کلپ میں نے سول سرجن ڈاکٹر ہریش جگانی کو بھیجی تھی اور اس کے ساتھ باقاعدہ تحریری شکایت بھی سول سرجن، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مٹھی، ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد اور اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ کراچی کو ارسال کی تھی۔
بعد ازاں سول سرجن ڈاکٹر ہریش جگانی نے انکوائری کروائی اور ڈاکٹر موہن لال کتری اور ڈاکٹر عبدالمالک نہڑیو کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے مجھے بلا کر معلومات حاصل کیں اور پوچھا کہ یکم مارچ کی رات کیا ہوا تھا۔ میں نے بتایا کہ میں نے وہ آڈیو کلپ سول سرجن کو بھیجی تھی مگر انہوں نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
انکوائری افسران نے آڈیو سن کر مجھے وقتی تسلی دی کہ میں حق پر ہوں۔ بعد میں اسٹاف نرس منٹھار بھیل کو بھی بلایا گیا، مگر اس نے اس وقت کوئی بیان نہیں دیا جبکہ میں نے اپنا بیان جمع کروا دیا تھا۔ بعد میں انکوائری افسران نے دھوکہ دے کر ایسی رپورٹ لکھی جس سے اس کو فائدہ پہنچایا گیا۔
کچھ دن بعد میں نے اپنے وکلاء کے ذریعے میل اسٹاف نرس منٹھار بھیل کو ایک قانونی نوٹس بھی بھیجا جس کا جواب اس نے دیا، جس میں اس نے مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگایا کہ میں اسے زنا کے لیے مجبور کرتا رہا ہوں، حالانکہ اس الزام کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
اسی طرح سردار بھیل، برکت ہنگورجو اور عبدالکریم کنبھار نے بھی مجھے شدید ذہنی اذیت دی ہے۔ میں بار بار کہتا رہا کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے، مگر اس کے باوجود انکوائری افسران نے مجھے مسلمان اور اسے ہندو بھائی سمجھتے ہوئے میرے خلاف سفارشات لکھ دیں اور میری ڈیوٹی تبدیل کرنے کی سفارش کی۔
یہ تذلیل اب میرے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ میں پورے ہوش و حواس میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو اس کے ذمہ دار ڈاکٹر ہریش جگانی (سول سرجن سول اسپتال مٹھی)، انکوائری افسر ڈاکٹر موہن لال کتری، ڈاکٹر عبدالمالک نہڑیو، اسٹاف نرس منٹھار بھیل، اسٹاف نرس سردار بھیل اور ان کے ساتھی ہوں گے۔ ان سب نے مل کر مجھے ذہنی طور پر بیمار کر دیا ہے۔ میں کئی دنوں سے سو نہیں سکا اور اس وقت روزے کی حالت میں اپنے رب کو حاضر و ناظر جان کر اقرار کرتا ہوں کہ میرا اس معاملے سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
میں اپنی آخری خواہش بیان کرتا ہوں کہ میری جیب میں اتنے پیسے موجود ہیں جو میرے کفن کا انتظام کر سکیں گے۔ ڈاکٹر مجیب چانڈیو، جو سول اسپتال مٹھی میں رات کی ڈیوٹی کرتے ہیں، انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ میرے موبائل کا کوڈ 1969 کھول کر میرے بیٹے محمد صادق کو اطلاع دیں اور اسے تسلی دیں کہ ڈاکٹر عبدالکریم شیخ اسپتال کے مسائل اور ذہنی اذیت کا شکار ہو کر یہ وصیت کر رہا ہے۔
میں اپنے بیٹے محمد صادق کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اپنی دونوں بہنوں کی شادیاں کرائے۔ میری موت کے بعد میرا چہرہ کسی کو نہ دکھایا جائے اور مجھے لاوارث کی طرح دفن کر دیا جائے اور میری قبر کی نشانی بھی مٹا دی جائے۔
اگر ڈاکٹر مجیب چانڈیو نے ایسا نہ کیا تو وہ خدا کے حضور جواب دہ ہوں گے اور میں اس معاملے میں فریادی ہوں گا۔
میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے نے امان کی دکان کے کرائے کے سلسلے میں دس لاکھ روپے ایڈوانس لیے تھے جو خادم شیخ لاڑکانہ کے حمزہ شیخ کے والد کو دیے گئے تھے۔ وقت پر وہ رقم واپس لے کر جمالی صاحب کو دے دی جائے۔
میں اپنے بیٹے کو یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ میرا بھائی عبدالعزیز شیخ میرے ساتھ مالی معاملات میں برابر کا شریک رہا ہے، اس لیے اس کا حساب درست طریقے سے ادا کیا جائے۔
آخر میں ایک بار پھر وصیت کرتا ہوں کہ میرا چہرہ کسی کو نہ دکھایا جائے، مجھے لاوارث کی طرح دفن کر دیا جائے اور میری قبر کی نشانی مٹا دی جائے۔
میں اس درخواست کے ذریعے سول سرجن ڈاکٹر ہریش جگانی کو پہلے ہی آگاہ کر چکا ہوں کہ میں یہ قدم اٹھانے جا رہا ہوں۔



