صدر زرداری کا بھاری فرمان،ایم کیو ایم دھمکیوں کے بعد دربارِ عالیہ میں طلب

کراچی/اسلام آباد( خصوصی رپورٹ)ملکی سیاست میں ایک غیر متوقع اور سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے؛ جن ایم کیو ایم رہنماؤں نے گورنر پنجاب کی تبدیلی اور دیگر معاملات پر حکومت کو دھمکیاں دی تھیں، اب وہی قیادت خود وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری کے دربار میں حاضری دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ مبینہ طور پر گورنر کامران ٹیسوری کی برطرفی کے بعد ایم کیو ایم کے حلقوں میں شدید بے چینی تھی اور فاروق ستار جیسے رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے علیحدگی اور استعفوں کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ تاہم، صدر زرداری نے اپنے مخصوص سیاسی انداز میں نہ صرف ایم کیو ایم کو دوبارہ اعتدال پر آنے پر آمادہ کر لیا ہے، بلکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کراچی کی سیاست اب بھی ایوانِ صدر کے اشاروں پر گھوم رہی ہے۔
اگرچہ سرکاری اعلامیہ میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور داخلی استحکام پر گفتگو کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ایم کیو ایم کی یہ حاضری دراصل پنجاب اور سندھ کے سیاسی مستقبل کے لیے ہے، جہاں یہ جماعت اب کسی بڑی وزارت یا سیاسی ایڈجسٹمنٹ کی متلاشی ہے۔
صدر زرداری نے ایم کیو ایم کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کی جماعت کا سیاسی وجود اب حکومتی فیصلوں کے تابع ہے، نہ کہ دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں۔




