غزہ سے ایران اور اب لبنان: اسرائیل کا نیا محاذ

نہال معظم:
مشرقِ وسطیٰ کا تپتا ہوا ریگزار ایک بار پھر تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے، جہاں لبنان کی زمین پر اب 2006 کی جنگ سے بھی کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن طوفان کے آثار نمایاں ہیں۔ اسرائیل کی فضائیہ بیروت اور جنوبی لبنان پر بمباری کر رہی ہے، راکٹ اور میزائل ہر روز آبادی کے وسط میں گرتے ہیں، اور زمینی فوج شمالی لبنان میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک ہفتے میں اب تک 1000 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، لاکھوں لوگ محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں بھاگ رہے ہیں، اور ہر گلی کوچہ خوف اور عدم یقین کی لپیٹ میں ہے۔
اسرائیل کا مؤقف واضح ہے کہ شمالی سرحد پر حزب اللہ کی موجودگی کے خاتمے کے بغیر کوئی حقیقی سلامتی ممکن نہیں۔ وہ اسے غزہ کی طرز کا آپریشن بنانے کا عزم دہرا رہا ہے ۔ یہ اقدام نہ صرف لبنان کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے خطے میں تناؤ کو بڑھا رہا ہے۔ حزب اللہ، ایران کا مضبوط اتحادی، اب صرف دفاعی ردعمل تک محدود نہیں رہی؛ اس کا جواب ہر حملے پر شدید اور منظم ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری پراکسی کشمکش اب کھلے محاذ کی شکل اختیار کر چکی ہے، اور لبنان اس کی پہلی لائن پر کھڑا ہے۔
یہ صرف فوجی تصادم نہیں رہا۔ 2024 میں حزب اللہ کے مواصلاتی نظام میں ہونے والے دھماکے اور اب کے فضائی حملے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جدید جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، خوف اور انسانی نفسیات کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔ ہر دھماکے، ہر راکٹ اور ہر فضائی حملہ نہ صرف جانی نقصان کا سبب بنتا ہے بلکہ خطے میں ایک نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کر رہا ہے جو طویل عرصے تک اثر انداز ہوگا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے سیاسی مفادات بھی اس کشیدگی میں واضح ہیں۔ داخلی سیاسی دباؤ، عدالتی مقدمات، اور انتخابی چالیں،یہ سب اس کے لیے ایک موقع فراہم کر رہی ہیں کہ وہ جنگی بیانیے کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کرے۔ لیکن یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب حکمران اپنی سیاسی بقا کے لیے جنگ کو استعمال کرتے ہیں، تو اس کی قیمت ہمیشہ عام انسانوں کو چکانی پڑتی ہے۔
لبنان کے عوام ایک ایسے لمحے کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ہر لمحہ کسی نئے قیامت خیز حملے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ بنیادی سہولیات کی کمی، بے گھر خاندان، زخمی اور خوفزدہ شہری،یہ سب ایک انسانی المیہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی اس المیے کو مزید بڑھا رہی ہے، اور یہ ثابت کر رہی ہے کہ طاقت کے ذریعے امن قائم کرنا صرف ایک سراب ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس بار بروقت کردار ادا کرے گی یا غزہ کے بعد اب لبنان ایک اور طویل انسانی بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا؟ اور اگر ہم نے خاموشی اختیار کی، تو مشرقِ وسطیٰ کے یہ نئے شعلے صرف لبنان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔



