ہمیں ایران سے بچاؤ: امریکہ کے چین سے ترلے

لاہور( خصوصی رپورٹ) ​ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اب اپنے سولہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران عالمی منظر نامے پر انتہائی سنسنی خیز تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ سب سے بڑی خبر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے حوالے سے ہے، جو گزشتہ چار پانچ دنوں سے منظرِ عام سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ ایک بھارتی صحافی نے تل ابیب میں اس عمارت کی ویڈیو شیئر کی ہے جسے ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا تھا، اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا، نتن یاہو وہاں ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اسرائیلی حکام نے اس صحافی کو گرفتار کر لیا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ رات پاک فضائیہ کے ڈرونز نے قندھار میں طالبان کے گڑھ پر سرجیکل اسٹرائیک کی، جس میں ایک خفیہ ٹنل اور ٹیکنیکل ایکوپمنٹ اسٹوریج سینٹر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ حملہ اسی علاقے میں کیا گیا جہاں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کا مبینہ مرکز واقع ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں طالبان کمانڈر حامد خراسانی سمیت 25 سے 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ملا ہیبت اللہ کے زخمی ہونے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ پاکستان کی اس کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ اب دہشت گردوں کے سرپرستوں کو بھی بخشا نہیں جائے گا اور پاکستان اپنی پالیسی میں "گڈ” اور "بیڈ” طالبان کی تمیز ختم کر کے دشمن کے ٹھکانوں کو براہِ راست نشانہ بنائے گا۔

​امریکہ اس جنگ میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے، کیونکہ وہ نہ تو ایران میں ‘ریجیم چینج’ کر سکا اور نہ ہی ابنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھلوانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اب امریکہ نے چین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے، جو کہ واشنگٹن کی واضح پسپائی کا ثبوت ہے۔

​مزید تفصیلات کے لیے شکیل ملک کی یہ خصوصی رپورٹ دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button