اسلام آباد پر ڈرون حملوں کے بعد پاکستان کا ہولناک جوابی وار!

لاہور(خصوصی نشست)​پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اب ایک ایسی خونی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے شعلے اسلام آباد تک پہنچ گئے ہیں۔ کابل اور قندھار پر پاکستانی فضائیہ کی قیامت خیز بمباری کے بعد، جہاں طالبان کے کئی اہم فوجی مراکز کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا گیا، وہیں اسلام آباد اور کوہاٹ میں پراسرار ڈرون حملوں نے سیکیورٹی اداروں کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ قندھار میں ہونے والے حملے کے وقت وہاں ایک خفیہ اجلاس جاری تھا جس میں مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ (RAW) کے افغانستان انچارج اور موساد کے کچھ کارندے بھی موجود تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، اس حملے میں ‘را’ کا اہم مہرہ یا تو ہلاک ہو چکا ہے یا شدید زخمی ہے، جس نے دہلی سے کابل تک صفِ ماتم بچھا دی ہے۔

​لیکن سب سے زیادہ تشویشناک بات اسلام آباد میں گرنے والے وہ "دیسی ساختہ” ڈرونز ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرحد پار سے نہیں آئے بلکہ پاکستان کے اندر ہی موجود سلیپر سیلز نے اڑائے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور پاکستان اب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ کابل میں "ریجیم چینج” (حکومت کی تبدیلی) کے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے۔ ملا یعقوب کی اسلام آباد پر حملے کی دھمکی اور اس کے فوراً بعد ڈرون حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ دشمن اب ہمارے گھروں کے اندر گھس کر وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ نہ صرف سرحد پار ان کی "ملٹری مائٹ” کو تباہ کرے گا بلکہ ملک کے اندر موجود ان کے نظریاتی ہمدردوں اور "نرسریوں” کا بھی مکمل صفایا کیا جائے گا کیونکہ اب یہ بقا کی وہ جنگ ہے جہاں "ریڈ لائن” اب گزرا ہوا قصہ بن چکی ہے۔

​ساری صورتحال پر 999 ٹیم کے ساتھ خصوصی نشست پر مبنی سیدعمران شفقت کا یہ پروگرام دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button