امریکہ کا ایرانی جزیرے ‘خارگ’ پر قبضے کا منصوبہ، 5,000 میرینز مشرق وسطیٰ روانہ

لاہور( خصوصی رپورٹ)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اب ایک انتہائی نازک اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں ایرانی معیشت کی شہ رگ کہلانے والے ‘خارگ جزیرے’ پر امریکی قبضے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خارگ جزیرے پر 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے لیے تزویراتی طور پر انتہائی اہم ہے کیونکہ ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات اسی مقام سے ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا دراصل اس جزیرے پر مستقل قبضے کی تیاری ہے تاکہ ایران کی معاشی ناکہ بندی کر کے اسے مذاکرات یا ‘ریجیم چینج’ پر مجبور کیا جا سکے۔

اس بڑے آپریشن کے لیے امریکہ نے 5,000 میرینز مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیے ہیں، جن میں ڈھائی ہزار ‘ڈیلٹا فورس’ کے کمانڈوز شامل ہیں۔ ان فوجیوں کو شنوک اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جزیرے پر اتارنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب امریکہ کو محسوس ہو رہا ہے کہ وہ روایتی جنگ میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (UAE) کو کھلی وارننگ دے دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں موجود تمام امریکی فوجی تنصیبات اب ان کے قانونی نشانے پر ہیں، اور اماراتی شہریوں کو ان فوجی اڈوں کے قریبی علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر خارگ جزیرے کو نقصان پہنچا تو وہ خلیجی ممالک کی تیل کی تنصیبات کو بھی نہیں بخشیں گے۔

​مکمل تفصیلات کے لیے سینئر صحافی توصیف احمد خان کایہ وی لاگ ملاحظہ کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button