اخلاقی پستی اور کد ذھنیت ایک سماجی المیہ

تحریر: جاوید لطیف میمن

اخلاقی پستی ایک ایسا سماجی المیہ ہے جو آج کے معاشرے میں تیزی سے سرائیت کرچکا ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف فرد کی بلکہ کل معاشرے کی تباہی کا باعث بن رہا ہے اخلاقی پستی کا ایک اھم سبب یہ بھی ہے کے آج کے معاشرے میں مادیت پرستی نے اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال دیا ہے لوگوں کی زندگی کا مقصد صرف مال و دولت کمانا رہ گیا ہے چاہے وہ جائز طریقہ سے ہو یا ناجائز جبکل تعلیم کی کمی بھی اخلاقی پستی کی ایک بڑی وجہ ہے ھمارے معاشرے میں لوگوں کو اخلاقی تعلیم نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے وہ صحیح اور غلط میں فرق نہیں کر پاتے اس مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کے پرائمری تعلیمی نظام سے لیکر کم سے کم میٹرک تک اس سبجیکٹ کو تعلیمی نظام میں شامل کیا جائے تاکہ معاشرے میں تیزی سرائیت کرتے اس خطرناک اور نازک مسئلے کو پھیلنے سے روکا جاسکے سماجی دباؤ بھی اخلاقی پستی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ لوگ اپنے دوستوں اور خاندان کے دباؤ میں آکر غلط کام کرتے ہیں اخلاقی پستی کی وجھہ سے جرائم میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو صحیح اور غلط میں فرق محسوس نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ جرائم کرتے ہیں۔اخلاقی پستی کی وجہ سے لوگوں میؑ سماجی نفاق پیدا ہوتا ہے جس کی وجھ سے لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے جس سے سماجی زندگی متاثر ہوتی ہے اخلاقی پستی کی وجہ سے فرد کی تباہی ہوتی ہے یہی وجھہ ہے کہ لوگ اپنے اخلاقی اقدار کو کھو دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اکثر اپنی زندگی میں ناکام ہو جاتے ہیں اخلاقی پستی کو ختم کرنے کا حل میری نظر میں لوگوں اخلاقی تعلیم دینی چاہئے۔ لوگوں کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھانا چاہیے۔سماجی دباؤ کا مقابلہ سماجی دباؤ کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ لوگوں کو اپنے فیصلوں پر قائم رہنا چاہیے مادیت پرستی سے بچنا چاہیے۔ لوگوں کو اپنی زندگی کا مقصد ناجائز دولت کمانا نہیں ہونا چاہیے کد ذھنیت بھی ھمارے معاشرے میں ناسور کی طرح سرائیت کرچکی ہے کد ذھنیت بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف فرد بلکہ کل معاشرے کی تباہی کا سبب بن چکا ہے کد ذھنیت کی ایک بڑی وجھہ عوام میں تعلیم کی کمی بھی ہے تعلیم نہ ہونے کے باعث لوگوں کو صحیح اور غلط میں فرق کا پتہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بھی لوگ کد ذھنیت کا شکار ہو جاتے ہیں سماجی دباؤ بھی دراصل کد ذھنیت کی ایک بڑی وجہ ہے لوگ اپنے دوستوں اور خاندان کے دباؤ یا پریشر میں آکر بھی کد ذھنیت جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں کد ذھنیت کی وجہ سے جرائم میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جس کی اھم وجھہ یہ بھی ہے کے لوگوں کو صحیح اور غلط میں فرق محسوس نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ اکثر جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں کد ذھنیت ایک ایسی بیماری ہے وجہ سے سماج میں نفاق پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے، جس کی وجہ سے سماجی زندگی متاثر ہوتی ہے کد ذھنیت رکھنے والے افراد کی وجہ سے معاشرے کی تباہی ہوتی ہے۔ لوگ اپنے اخلاقی اقدار کھو دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بھک وہ اپنی زندگی میں ناکام ہو جاتے ہیں میں سمجھتا ہوں کے کد ذھنیت کو روکنے کے لئے بھی تعلیمی اصلاحات کرنا بہت ضروری ہے جس کی وجھہ سے انسان کو سماجی دباؤ کا مقابلہ کرنا میں آسانیاں پیدا ہوسکتی ہے جس کی وجھ نے صرف اخلاقی پستی پر کد ذھنیت جیسے ناسور کو بھی معاشرے میں پھیلانے بچایا سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button