تھرپارکر میں خواتین کی بااختیاری کیلئے“وال آف چیلنجز اینڈ کامیابی”سرگرمی،افطار ڈنر

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)مٹھی میں تھر ایجوکیشن الائنس کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مکالمہ، شراکت داری اور عزم کے عنوان سے تھر ایجوکیشن الائنس کی جانب سے تقریب۔افطار کا اہتمام۔ تھرپارکر میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے کے مقصد سے تھر ایجوکیشن الائنس کی جانب سے ایک خصوصی تقریب اور افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب میں صرف خواتین نے ہی شرکت کی وہ خواتین جو کہ سول سوسائٹی تنظیموں، ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں، سرکاری اسکولوں کے اساتذہ، بین الاقوامی این جی اوز اور مقامی کمیونٹیز کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس موقع پر تھر ایجوکیشن الائنس کی پروگرام مئنيجر اسٹیم صنم الطاف، ٹی ای او فیمیل پرائمری رابعہ اکبر، ٹی ای او سیکینڈری سشیلا، عروج فاطمہ و دیگراں
نے اس بات پر زور دیا کہ وسائل کی شراکت اور رہنمائی (مینٹورشپ) کے ذریعے تھرپارکر کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے ترقی کے مواقع کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔خواتین کو تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے پڑھی لکھی خواتین پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتے ہیں کہ وہ والدین کو آمادہ کریں کہ وہ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجیں اور ان کی ہمت افزائی بھی کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ تھرپارکر میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور مسائل کے حل کیلئے چیمپین فار چینج نیٹ ورک کام کر رہا ہے جس میں صرف لڑکیاں ہی شامل ہیں اور وہ آگاہی مہم چلا رہی ہیں کہ پر بچی تعلیم حاصل کر سکے اور سرکار ان کے لیے سہولیات فراہم کرے۔
اس موقع پر “دی وال آف چیلنجز اینڈ کامیابی ” کے عنوان سے ایک سرگرمی بھی کی گئی جس میں لڑکیوں اور خواتین نے اپنی زندگی کی جدوجہد، کامیابیوں اور مستقبل کے اہداف کے بارے میں متاثر کن کہانیاں شیئر کیں۔ ان کہانیوں نے ان کے عزم اور حوصلے کو اجاگر کیا۔تقریب میں شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کی تعلیم، ہنر مندی اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے مشترکہ کاوشوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے خیالات کے تبادلے اور ہر شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کو تازہ کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہو گا۔



