وزیرآباد میں پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کا تعلیمی اداروں کی بندش پر اظہارِ تشویش

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے)حکومت پنجاب کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کے سرپرست حاجی اشفاق احمد وڑائچ،محمد فاروق مرزا،سیف اللہ بٹ نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث پاکستان میں اسکولوں اور کالجوں کو بند کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر تعلیمی اداروں کو بند کرنا کسی طور بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں وہ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ضلع وزیرآباد کے زیر اہتمام افطار ڈنر کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے اس موقع پر گوجرانوالہ و گجرات ڈویژن سے پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کے ذمہ داران ثاقب رانجھا،عدیل بابر،راشد حسین،محمد عاطف،ڈاکٹر عزیز الرحمان،عدنان بٹ،مبشر حسین،مراد بھٹی،عمران بھٹی،عبدالحمید،عمر وڑائچ،بلال وزیر،عرفان یوسف،جمشید چٹھہ،صابر حسین بٹ سمیت دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی ضمانت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اولین ترجیح دے کر معاشی، سماجی اور سائنسی میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس کے برعکس اگر تعلیمی سلسلہ بار بار تعطل کا شکار ہو تو اس کے منفی اثرات نہ صرف طلبہ و طالبات بلکہ پوری قوم کے مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر تعطیلات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ موسم گرما کی طویل چھٹیاں، سرما کی تعطیلات، ہفتہ وار تعطیلات، امتحانات کے دوران وقفے، موسمی حالات کے باعث چھٹیاں اور دینی و قومی تہواروں پر تعطیلات کے باعث تعلیمی سال کا بڑا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر مزید غیر ضروری تعطیلات دے دی جائیں تو طلبہ و طالبات کے پاس تعلیم کے لیے بہت کم وقت رہ جاتا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے نہ صرف طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے بلکہ اساتذہ کے تدریسی شیڈول میں بھی خلل پڑتا ہے اور نصاب کی بروقت تکمیل ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں امتحانات کی تیاری متاثر ہوتی ہے اور طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تعلیمی اداروں کو کھولنے کے احکامات جاری کرے تاکہ طلبہ و طالبات کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر توانائی کی بچت یا دیگر انتظامی مسائل درپیش ہیں تو اس کے متبادل حل تلاش کیے جائیں، مگر تعلیم کے تسلسل کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔



