ایران کا بڑا حملہ: “وعدہ صادق 4” کی نئی لہر، تل ابیب اور امریکی اڈے نشانے پر

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 37 ویں لہر کے تحت 3 گھنٹے تک مسلسل میزائل حملے کیے گئے، حملوں میں عراق کے شہر اربیل ، بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹراور اسرائیل کے شہر تل ابیب میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی آر جی سی کے مطابق جنوبی تل ابیب میں واقع سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو دوسری بار نشانہ بنایا گیا جبکہ مقبوضہ بندرگاہ حیفہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ حملوں میں خیبر شکن، قدر اور خرم شہر میزائل استعمال کئے گئے، ان میزائلوں میں متعدد وارہیڈز نصب تھے جبکہ قدر میزائل کے وارہیڈ کا وزن تقریباً ایک ٹن بتایا گیا ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 4 گزشتہ ماہ اس وقت شروع کیا گیا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر حملہ، دفاعی نظام میزائل روکنے میں ناکام
ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے اہم ترین بن گوریان ایئرپورٹ پر میزائلوں کی بارش کر دی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر میزائل حملے کئے جسے اسرائیل کا دفاعی نظام روکنے میں ناکام رہا اور کئی میزائل ایئرپورٹ پر گرے جس سے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق حملوں کے بعد سائرن کی آوازیں گونجتی رہیں، جبکہ اسرائیلی ٹی وی نے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ادھر لبنان سے میزائل حملے میں اسرائیلی فوج کا کمیونیکیشن سسٹم تباہ ہوگیا جبکہ حملے میں 2 اسرائیلی زخمی ہوگئے۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون سا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب اسرائیل اور امریکا مناسب سمجھیں گے اور مل کر فیصلہ کریں گے، اسرائیل ایران سے لامحدود جنگ نہیں چاہتا۔
بغداد، یو اے ای اور سعودیہ میں بھی امریکی اڈوں پر حملے
اس کے علاوہ بغداد میں بھی امریکی وکٹوریہ ایئربیس پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کیا گیا، حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
متحدہ عرب امارات میں بھی میزائل اور ڈورنز سے حملہ کیا گیا، امارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈورنز اور میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا، جبکہ سعودی عرب کے وزارت دفاع نے کہا کہ ملک کی سکیورٹی فورسز میزائلوں اور ڈرونز کی ایک لہر کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
اس کے علاوہ حفرالباطی میں 2 ڈورنز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے، پرنس سلطان ایئربیس کی جانب داغے گئے 6 بلیسٹک میزائل بھی تباہ کر دیئے، حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسری نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکا یا اس کے اتحادیوں کے کسی بھی فوجی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسری کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکا کے وزیر توانائی نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو حفاظتی حصار فراہم کیا، بعد میں انہوں نے یہ بیان سماجی رابطے کی ویب گاہ سے حذف کر دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ کے مطابق آبنائے ہرمز سے کسی تیل بردار جہاز کے امریکی فوجی حفاظت میں گزرنے کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں کا کوئی بحری بیڑا اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ایرانی میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے روک دیا جائے گا۔



