خامنہ ای کے بیٹے کو سپریم لیڈر بناکر ایران نے بڑی غلطی کی،اسے بھی مار دیں گے، ٹرمپ کی دھمکی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جو بھی نئی قیادت سامنے آئے گی اسے بھی ختم کر دیا جائے گا۔
ری پبلکن ارکان کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز کر رہے ہیں اور ایرانی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے پانچ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے متعدد جنگی بحری جہاز اب سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں اور ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت بھی بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے یہ کارروائیاں نہ کی ہوتیں تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹم بم حاصل کر لیتا جو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی۔
ٹرمپ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک بڑے فوجی آپریشن “ایپک فیوری” کو دیکھ رہی ہے جو ان کے بقول آپریشن “مڈنائٹ ہیمر” سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں انہوں نے امریکی فوج کو مضبوط بنانے پر کام کیا جبکہ دوسری مدت میں اس طاقت کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اب پوری دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جوبائیڈن کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان سے امریکی انخلا کو امریکی تاریخ کا شرمناک مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی تھی، تاہم اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ امریکا کا احترام کر رہی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنا ای کو نیا رہنما بنا کر بڑی غلطی کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ایران کا غلط فیصلہ ہے اور اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔
یاد رہے کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔
ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور اس کے اثرات عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



