امریکا کی سیاست میں “امریکا فرسٹ یا اسرائیل فرسٹ؟”

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکا کی سیاست میں “امریکا فرسٹ یا اسرائیل فرسٹ؟” کا سوال ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں رپورٹرز نے امریکی کانگریس کی عمارت میں موجود ایک رکنِ کانگریس سے سوال کیا کہ آیا ان کی ترجیح امریکا فرسٹ ہے یا اسرائیل فرسٹ۔ اس سوال پر بعض ارکان نے خاموشی اختیار کی جبکہ بعض نے براہِ راست اسرائیل کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی کانگریس کی عمارت کے اندر ہونے والے اس سوال و جواب کو کئی لوگوں نے امریکی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسیوں میں اکثر اسرائیل کے مفادات کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ بعض مبصرین کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹیجک اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے مفادات کئی معاملات میں ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ امریکی سیاست دانوں کو سب سے پہلے اپنے ملک اور عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ دوسروں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی اتحاد اور شراکت داری بھی عالمی سیاست کا اہم حصہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دفاع، معیشت اور سفارت کاری کے میدان میں دونوں ممالک کے درمیان گہرا تعاون پایا جاتا ہے۔ تاہم اس طرح کے سوالات وقتاً فوقتاً یہ بحث ضرور پیدا کرتے ہیں کہ امریکی پالیسیوں میں قومی مفادات اور بین الاقوامی اتحادیوں کے مفادات کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
یوں یہ واقعہ نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ عالمی سیاست کے مباحث میں بھی ایک نئی گفتگو کا سبب بن گیا ہے، جہاں لوگ امریکی خارجہ پالیسی اور اس کے اثرات پر مختلف زاویوں سے بات کر رہے ہیں۔



