تھر کول منصوبے: سندھ یونیورسٹی وفد کو تھر سٹیزن فورم نے مقامی مسائل اور حقوق کی بریفنگ دی

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)مٹھی میں سندھ یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسروں اور طلبہ کے وفد نے تھر کول ایریا سمیت مختلف علاقوں کے دورے کے بعد تھر سٹیزن فورم کے دفتر پہنچ کر رہنماؤں سے ملاقات کی اور تھر کول سمیت مختلف قدرتی معدنی وسائل اور تھر کے بنیادی مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔

سندھ یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طلبہ کے وفد میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ارم اور سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ شامل تھے۔ وفد کو آگاہی دیتے ہوئے تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوبھایو جونيجو، عظمی ابڑينگ، اعجاز بجير، ساجن چارو، امتياز نور ڪنڀر، جی ایم سونهاراڻي اور قربان سمیجو نے بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ تھر قدرتی معدنی وسائل جیسے کہ کوئلہ، چائنا کلی، نمک کی کانیں، گرینائٹ اور دیگر وسائل سے مالا مال ہے۔ اگر یہ علاقہ معدنی وسائل کے لحاظ سے بخوبی استعمال ہو تو ترقی ہو سکتی ہے، لیکن تھر کول سمیت مختلف پروجیکٹس کے تحت تھر کے عوام کے حقوق پامال کیے گئے ہیں۔ تھر کول پروجیکٹس سے ملنے والی 27 ارب روپے کی رائلٹی مقامی عوام کی بنیادی مسائل کے حل یا ترقی کے بجائے کمپنیوں کی اپنی من پسند فاؤنڈیشن اور سی ایس آر فنڈ میں غلط استعمال ہو رہی ہے، جبکہ مقامی لوگوں کو روزگار سمیت بنیادی حقوق نہیں دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ تھر کول پروجیکٹس کے باعث مقامی لوگوں کی زمینیں لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت زبردستی خالی کرائی گئی ہیں، لوگ بے گھر ہو گئے اور آج بھی حق اور متبادل رہائش کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ تھر کول منصوبوں کی وجہ سے زیر زمین پانی آلودہ ہوا، جنگلی حیات متاثر ہوئی اور ماحولیات خراب ہوئی ہیں۔ متاثرہ لوگوں کو چند افراد کو معاوضہ دے کر زبردستی زمینیں لی گئیں جبکہ روزگار کے حقوق نہیں دیے گئے۔

وفد کو بتایا گیا کہ جو بھی تھر کول ایریا کا دورہ کرتا ہے، اسے پہلے سے اپنی من پسند بینفیشریز دکھائے جاتے ہیں، جیسے اسپتال، آر او پلانٹ یا انصاری باغ نیا پارک، جبکہ زمینی حقیقت مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے بلاک ون اور ٹو کے پاور پلانٹس سے 2640 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ کو دی جاتی ہے، لیکن پاور پلانٹس کے آس پاس کے گاؤں اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تھر کول پروجیکٹس اور آئندہ ریلویز لائنز تھر کی ماحولیات کو بگاڑ رہی ہیں اور مقامی لوگوں کی روایتی زندگی متاثر ہوئی ہے، جبکہ بنیادی سہولیات نہیں دی گئیں۔ چند خواتین کو ڈمپر ڈرائیور یا مزدور کے طور پر رکھا جاتا ہے، جبکہ پڑھے لکھے نوجوان روزگار کے حق سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھر کول منصوبے پاکستان کی ترقی کے لیے ہیں، لیکن تھر خود تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ متاثرین روزانہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ اور منتخب نمائندے کمپنیوں سے مراعات لے کر مقامی عوام کے حقوق نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ لوہے کی کانیں، چائنا کلی، گرینائٹ اور دیگر معدنی وسائل پر مقامی لوگوں کو رائلٹی یا لیز دینے کے لیے حکومت تیار نہیں ہے، اور لیبر قوانین یا سوشل سیکیورٹی کارڈز اور سیفٹی میئرز کی پابندی نہیں کی جاتی۔ اسی وجہ سے تھر سٹیزن فورم عوام میں آگاہی مہم چلا رہا ہے تاکہ ہر تھر کا رہائشی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرے۔

سندھ یونیورسٹی کے وفد نے تھر کول پروجیکٹس کے بارے میں مختلف سوالات کیے جن کے جوابات تھر سٹیزن فورم کے رہنماؤں نے دیے اور مشترکہ رائے سے فورم کے موقف سے اتفاق کیا۔ ملاقات میں تھر سٹیزن فورم کے تین سالہ کام کے بارے میں بھی وفد کو آگاہ کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button