تھرپارکر: ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے سے متاثرہ گاؤں کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیٹی قائم

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی)تھر کول انرجی بورڈ کے رکن کنور کرنی سنگھ سوڍا کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی خدشات کے بعد سندھ حکومت کی توانائی محکمے نے تھر ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے سے متاثرہ آبادی کے مسائل کا جائزہ لینے اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ کول اتھارٹی جنید احمد کی سربراہی میں کمیٹی نے ضلع تھرپارکر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور ریلوے ٹریک سے متعلق اٹھائے گئے معاملات کا جائزہ لیا، جو آبادی والے علاقوں سے گزر رہا ہے۔
دورے کے دوران کمیٹی نے منصوبے کے مختلف مقامات کا معائنہ کیا اور منصوبے کے حکام، کنسلٹنٹس اور اے پی سی کنٹریکٹرز کی جانب سے ریلوے منصوبے کی پیش رفت اور مقامی آبادی کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
اس سے قبل کنور کرنی سنگھ سوڍا نے صوبے کی سطح پر یہ معاملہ باقاعدگی سے اٹھایا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ مجوزہ ریلوے ٹریک کی لائنمنٹ کی وجہ سے ضلع عمرکوٹ اور ضلع تھرپارکر کے تعلقہ جات، کیاچھرو، مٹھی اور اسلام کوٹ کے تقریباً 30 گاؤں متاثر ہو رہے ہیں، جن کی مشترکہ آبادی 50 ہزار سے زیادہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران مقامی آبادی کے حقوق، تحفظ اور رسائی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر کنور کرنی سنگھ سوڍا نے کہا کہ علاقے کی ترقی کے لیے ترقیاتی منصوبے ضروری ہیں، لیکن یہ ترقی مقامی لوگوں کے روزگار، زمین اور بنیادی حقوق کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ گاؤں کے لیے مناسب راستے، حفاظتی انتظامات اور منصفانہ حل یقینی بنایا جائے۔
کمیٹی کے اراکین نے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مقامی رہائشیوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل براہِ راست سنے۔
دورے کا مقصد زمینی حقائق کا جائزہ لے کر متاثرہ گاؤں کے مسائل کے حل کے لیے سفارشات تیار کرنا تھا۔ کمیٹی مقررہ وقت کے اندر اپنی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔
مقامی رہائشیوں اور کمیونٹی کے نمائندوں نے کنور کرنی سنگھ سوڍا کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے صوبے کی سطح پر ان کے مسائل کو مؤثر طریقے سے اجاگر کیا اور ان کی آواز حکام تک پہنچائی۔



