امریکا، اسرائیل کے شہری آبادیوں پر حملے، مہرآباد ایئرپورٹ دھماکوں سے گونج اٹھا، شہدا کی تعداد 1332 ہوگئی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آٹھویں روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مزید حملے کر دیئے، تہران میں مہرآباد ایئرپورٹ پر دھماکے ہوئے، امریکا کا ایران کے 43 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ، اسرائیل کی لبنان میں بھی بمباری جاری ہے۔
خلیجی میڈیا کے مطابق تہران کے مغربی حصے میں دھماکے کی آواز سنی گئی، تہران کے آزادی ٹاور کے قریب بمباری سے کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں، دھوئیں کے بادل میلوں دور سے دکھائی دیئے۔
امریکی اور اسرائیلی فوج نے مہر آباد ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا، اسرائیل اور امریکی بمباری سے ایران میں شہید افراد کی تعداد 1332 ہوگئی، شہدا میں 198 خواتین، طبی عملے کے 8 ارکان بھی شامل ہیں، ایران نے اردون میں تھاڈ ڈیفنس سسٹم کا ریڈار تباہ کردیا۔
لبنانی شہرالقوزح میں اسرائیلی حملے میں اقوام متحدہ کی امن فورس کے3 اہلکار زخمی ہوگئے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امن فورس کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیٹے سمیت 8 فوجی شدید زخمی
بیروت پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے لبنان سے صیہونی ریاست پر راکٹس کی بارش کردی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے داغے گئے متعدد راکٹس صیہونی دفاعی فضائی نظام کو چکما دیتے ہوئے اسرائیل کے شمالی علاقے میں واقع ایک فوجی کیمپ کے نہایت قریب گرے، حزب اللہ کے راکٹس حملوں میں اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹرچ کے بیٹے سمیت 8 فوجی اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔
تل ابیب میں دھماکے
دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیلی پر میزائلوں سے تازہ حملے کیے ہیں، ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 4 کی تیئیسویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس مرحلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطین میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی بحری بیڑے ابراہام لنکن پر ایرانی بحریہ کا میزائل حملہ
دریں اثنا ایک علیحدہ کارروائی میں ایرانی بحریہ نے سمندر میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابرہام لنکن کو نشانہ بنانے کے لیے ساحل سے سمندر میں مار کرنے والا میزائل فائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 43 ایرانی جنگی جہازوں کو نقصان یا تباہ کیا جا چکا ہے، ایران میں 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل کے حملے میں آیت اللہ کے قریبی ساتھی اصغر حجازی شہید
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر کے ساتھی اصغر حجازی کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
اصغر حجازی آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے چیف آس اسٹاف، اہم ترین کمانڈر، سپریم لیڈر کے نہایت قریبی ساتھی اور بااثر ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی ہفتہ وار رپورٹ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے جنگ کے پہلے ہفتے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن 28 فروری2026ء کو دوپہر ایک بج کر پندرہ منٹ پر شروع ہوا، آپریشن میں امریکی فضائی، بحری اور ڈرون صلاحیتیں استعمال کی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ بی ٹو سٹیلتھ اور بی ون بمبار طیارے آپریشن میں استعمال کئے گئے، ایف15، ایف 16، ایف 18 اور ایف 22 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا، ایران میں آپریشن کے دوران ایف 35 سٹیلتھ فائٹرز نے بھی حصہ لیا، اے10 حملہ آور طیارے اور الیکٹرانک وار فیئر طیارے استعمال کئے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام کو استعمال کیا گیا ہے، یام کیو9 ریپر اور دیگر ڈرونز بھی کارروائی میں شامل تھے، پی 8 میری ٹائم پٹرول اور آر سی135 جاسوس طیارے استعمال بھی کئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ امریکی بحری بیڑے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی آپریشن کا حصہ ہیں، جوہری توانائی سے چلنے والے ایئر کرافٹ کیریئرز بھی تعینات کئے، امریکی کارگو طیارے سی 17 اور سی 130 بھی آپریشن میں شامل ہیں، فضائی ری فیولنگ ٹینکرز کے ذریعے جنگی طیاروں کو مدد فراہم کی گئی۔
پاسداران انقلاب کا ٹرمپ کو آبنائے ہرمز میں جہاز بھیجنے کا چیلنج
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمت ہے کہ تو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی بحری جہاز تعینات کرکے دکھائیں۔
ایران کی فوج نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہے تاہم اگر کوئی امریکی یا اسرائیلی جہاز اس سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، قابل قبول رہنما کا انتخاب ہونے کے بعد امریکا اور اتحادی ایران کی ہر ممکن مدد کریں گے، خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای ناقابل قبول ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج اتارنے کا امکان بھی مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیت ختم کردیں گے، ایران نے ڈیل کیلئے کال کی، ہم نے کہا بہت دیر ہوگئی، ایران کے بعد اگلا ہدف کیوبا ہوگا۔



