بدین میں گندم کی کٹائی شروع،خریداری کیلئے کوئی سرکاری مرکز قائم نہ ہو سکا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)بدین میں گندم کی فصل کی کٹائی شروع ہو گئی۔ بدین، ٹنڈو باگو، پنگریو، کھوسکی، شادی لارج، کڈھن، سیرانی، تلہار، پیرو لاشاری، گولارچی سمیت ضلع میں ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی گندم کی فصل کٹنے کے باوجود محکمہ خوراک کی جانب سے آبادگاروں سے گندم کی خریداری کے لیے کوئی سرکاری مرکز تاحال قائم نہیں کیا جا سکا ہے، نہ ہی سرکاری نرخ مقرر ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد ہو سکا ہے ہر سال گندم کی فصل کی کٹائی سے پہلے سرکاری سطح پر قیمت مقرر کر کے تاجروں کو اس کی پابندی کا پابند بنایا جاتا ہے، مگر اس سال گندم کی فصل کٹنے کے باوجود حکومت کی جانب سے مقررہ قیمت پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اور تاجر اپنی من پسند قیمت مقرر کر کے آبادگاروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ سرکاری نرخ نہ ملنے کی وجہ سے آبادگاروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے سرکاری خریداری مراکز نہ ہونے کی وجہ سے تاجروں نے غیر سرکاری کانٹے لگا کر آبادگاروں سے اپنی من پسند قیمت پر گندم خریدنا شروع کر دی ہے، جس کے باعث آبادگاروں کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے

بدین ضلع کے آبادگاروں علی نواز ویڑھو، غلام قادر، امجد احمدانی، سہراب پھل اور دیگر نے صحافیوں کو بتایا کہ اس سال سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی کاشت کے لیے کھاد کے اخراجات کی مد میں چھوٹے آبادگاروں کو رقم دی گئی تھی، تاہم کئی آبادگاروں کو یہ رقم بھی موصول نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری میں سستی دکھائی جا رہی ہے۔ علاقے میں گندم کی فصل کٹ رہی ہے مگر ابھی تک حکومت کی مقرر کردہ قیمت پر عملدرآمد نہیں ہوا اور نہ ہی سرکاری خریداری مرکز کھولا گیا ہے، جس سے ہمیں اس سال بھی لاکھوں روپے کا نقصان ہوگا

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر سال سرکاری خریداری مراکز دیر سے کھولے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے آبادگار گندم کٹتے ہی مقامی تاجروں کو فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں جب سرکاری مراکز کھولے جاتے ہیں تو فوڈ انسپکٹر مقامی تاجروں سے کمیشن کے عوض گندم خرید کر مقامی آبادگاروں کے نام پر لاکھوں روپے کی کرپشن کرتے ہیں۔ سرکاری قیمت نہ ملنے کے باعث ہم تاجروں سے لیا گیا بیج، کھاد اور زرعی اخراجات کا قرض بھی ادا نہیں کر پاتے اور مزید قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں

آبادگاروں نے حکومت سندھ اور محکمہ زراعت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی سرکاری قیمت مقرر کر کے اس پر فوری عملدرآمد کرایا جائے، سرکاری خریداری مراکز کھولے جائیں اور آبادگاروں کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ سندھ کی زراعت کو فروغ مل سکے۔

مزید خبریں

Back to top button