امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے نے عالمی سیاست میں تین دھڑے پیدا کر دئیے

لندن(جانوڈاٹ پی کے)28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران پر مسلط جنگ نے دنیا کو سیاسی طور پر تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔
28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی فوجی کارروائی جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” اور اسرائیل نے “آپریشن رائسنگ لائن” کا نام دیا، نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا اور پیچیدہ محاذ کھول دیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کے جوہرپروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو روکنے کے لیے ایک “ضروری دفاعی کارروائی” ہے۔ امریکا نے اپنے اقدام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت “حقِ دفاع” قرار دیا ہے جو کسی ریاست کو مسلح حملے کی صورت میں دفاع کا حق دیتا ہے۔
اس دفاع والے بیانیےکو اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی استعمال کیا اور اسے پیشگی دفاع قرار دیا۔
اس صورتحال میں پوری دنیا سفارتی اور سیاسی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ جو ممالک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ان میں کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی، برطانیہ، اٹلی اور فرانس شامل ہیں، جنہوں نے اس اقدام کو علاقائی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا اور اسرائیلی مؤقف کی تائید کی۔
فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اسرائیل کی سلامتی کے حق کو تسلیم کیا مگر “زیادہ سے زیادہ تحمل” اور مذاکرات پر زور دیا۔
امریکا اور اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کرنے والے ممالک میں روس، چین، پاکستان سمیت اسپین شامل ہیں جبکہ برازیل اور ساؤتھ افریقا سمیت کئی ممالک نے جنگ بندی اور سفارتکاری پر زور دیا ہے۔
روس نے سلامتی کونسل میں مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 51 کا اطلاق صرف اس وقت ہوتا ہے جب واضح حملہ ہو چکا ہو اور یکطرفہ پیشگی حملہ اس کی تشریح سے باہر ہے۔
چین نے بھی کہا کہ خود دفاع کی شق کو وسیع انداز میں استعمال کرنا عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال قائم کرے گا۔
پاکستان نے کارروائی کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب یورپ کے اندر اختلاف برقرار ہے۔ اسپین نے جنگ کو “تباہ کن راستہ” قرار دیتے ہوئے فوجی شمولیت سے انکار کیا ہے۔
ادھر جنوبی امریکا میں برازیل نے سفارتکاری کو واحد راستہ قرار دیا ہے جب کہ جنوبی افریقا نے طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں آرٹیکل 51 کی تشریح پر طویل بحث ہوئی لیکن کسی متفقہ قرارداد پر اتفاق نہ ہو سکا۔
ادھر ایران کے جوابی میزائل حملوں کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا اسٹریٹجک احتیاط کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔



