ٹھٹھہ میں مبینہ جعلی پولیس مقابلہ، 16 سالہ نوجوان گرفتار

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے )ٹھٹھہ میں مبینہ جعلی پولیس مقابلہ، 16 سالہ نوجوان کی گرفتاری پر سوالات، وکلاء کا مفت قانونی تعاون کا اعلانٹھٹھہ شہر میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے اور کمسن نوجوان کی گرفتاری کے معاملے نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 12 فروری کو ٹھٹھہ پولیس کی جانب سے اوجڑی مسجد کے قریب ایک مقابلہ ظاہر کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مذکورہ مقام ایسی سڑک پر واقع ہے جہاں سے فرار ہونا ممکن نہیں، جس پر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔

پولیس کی جانب سے ایک ملزم شہزاد ولد ہاشم کو مفرور ظاہر کیا گیا تھا۔ متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ گزشتہ رات تقریباً دو بجے پولیس کی متعدد موبائلوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل نفری شہزاد ولد ظفر کے گھر میں داخل ہوئی، جہاں سے مبینہ طور پر سونا، موبائل فون اور دیگر سامان لے جایا گیا اور 16 سالہ شہزاد کو حراست میں لے لیا گیا۔

اہل خانہ کے مطابق صبح شہزاد کو عدالت میں پیش کیا گیا اور اسے مبینہ پولیس مقابلے میں ملوث ظاہر کیا گیا۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ کمسن نوجوان پر دو مرتبہ مقابلے کا الزام عائد کیا جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مقدمہ معروف وکیل جمانی کے پاس ہے، جبکہ انسانی حقوق کے جذبے سے سرشار کئی وکلاء نے بھی اس کیس میں مفت پیروی کی پیشکش کی ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی کے ذریعے شفاف تحقیقات اور انصاف کے منتظر ہیں۔

دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ معاملے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button