اسرائیل کے امریکا کو جنگ میں دھکیلنے کی بات مضحکہ خیز ہے، نیتن یاہو

لندن (ویب ڈیسک) اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امریکا کو جنگ میں دھکیلے جانے کی بات “مضحکہ خیز” ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین رہنما ہیں اور وہ وہی فیصلہ کرتے ہیں جو امریکا کے مفاد میں ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایسے عناصر کے خلاف جنگ ضروری ہو جاتی ہے جو کسی ملک کو تباہ کر سکتے ہوں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران کی حالیہ جوہری سرگرمیوں کے باعث وہ چند ماہ میں ایسی صلاحیت حاصل کر لیتا جسے روکنا ناممکن ہو جاتا۔
انہوں نے کہا کہ جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے جوہری مقامات کو نشانہ بنانے والے اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ فضائی حملوں کے باوجود ایرانی فوجیوں اور تکنیکی ماہرین نے زیرِ زمین بنکرز سمیت نئی تنصیبات کی تعمیر شروع کر دی تھی، جہاں بیلسٹک میزائل اور ایٹم بم تیار کیے جا سکتے تھے۔ نیتن یاہو کے مطابق اگر فوری اقدام نہ کیا جاتا تو مستقبل میں کارروائی ممکن نہ رہتی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ طویل اور نہ ختم ہونے والی لڑائی نہیں بنے گی بلکہ اس میں فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایران بارہا اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔



