اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی جو بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے گی اور مربوط پالیسی اقدامات یقینی بنائے گی،وزیرخزانہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ معاشی اعشاریوں کی بہتری کے باوجود عالمی صورت حال کی وجہ سے خطرات ہوسکتے ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ نے اپنے تازہ بیان میں اعتراف کیا کہ اگرچہ معاشی اعشاریے بہتری کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور بعض شعبوں میں بحالی کے آثار نمایاں ہیں تاہم عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل ممکنہ خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے گی اور مربوط پالیسی اقدامات یقینی بنائے گی۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر کوبین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزہ مشن سے اہم ملاقات کی، جس کی قیادت مشن چیف آئیوا پیٹرووا( Iva Petrova) کر رہی تھیں اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک،سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ ملاقات پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے کے آغاز کے سلسلے میں ہوئی، جس میں ملکی معیشت کی موجودہ صورتِ حال اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ جائزے کی کامیاب تکمیل کے بعد حکومت نے مشکل مگر ناگزیر اصلاحات کے ذریعے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی نظم و ضبط اور میکرو اکنامک استحکام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور یہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس نظام اور توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات حکومتی ایجنڈے کا مرکزی ستون ہیں جبکہ ٹیکس انتظامیہ میں افرادی قوت، طریقۂ کار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جامع تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ ٹیکس پالیسی سازی مضبوط معاشی اصولوں کے تحت کی جا سکے۔
نجکاری اور سرکاری اداروں کی اصلاحات کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم لین دین اور تنظیمِ نو کے اقدامات رواں سال آگے بڑھائے جائیں گے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب کے مطابق حالیہ پیش رفت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی معیشت کی درست سمت کا مظہر ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نجکاری اور تنظیمِ نو کا عمل شفاف اور منظم انداز میں جاری رہے گا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے حجم میں کمی، بعض وزارتوں کے انضمام اور چند اداروں کی بندش جیسے اقدامات کو بھی وسیع تر عوامی شعبہ اصلاحات کا حصہ قرار دیاجن کا مقصد کارکردگی اور طرزِ حکمرانی میں بہتری لانا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی کو دہراتے ہوئے کہا کہ تجارتی سہولت کاری اور ٹیرف میں تدریجی اصلاحات کے ذریعے مسابقت بڑھائی جا رہی ہے تاکہ درآمدی انحصار کم کیا جا سکے۔
سیلابی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالیاتی گنجائش کی دستیابی نے بروقت امدادی اور بحالی اقدامات کو ممکن بنایا، جس سے ثابت ہوا کہ معاشی استحکام نے ملک کی بیرونی اور موسمیاتی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اعتراف کیا کہ اگرچہ معاشی اعشاریے بہتری کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور بعض شعبوں میں بحالی کے آثار نمایاں ہیں تاہم عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل ممکنہ خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے گی اور مربوط پالیسی اقدامات یقینی بنائے گی۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ معاشی استحکام کے اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت سماجی اثرات سے بھی آگاہ ہے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سماجی اخراجات میں بہتری کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔
آئی ایم ایف مشن کی چیف آئیوا پیٹرووا نے وزیرِ خزانہ کی بریفنگ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں حکام سے ہونے والی ملاقاتوں سمیت جاری جائزوں پر تبادلۂ خیال مفید رہا ہے دونوں فریقین نے آئندہ دنوں میں ورچوئل ملاقاتوں کے ذریعے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔



