ایران اور خلیجی ممالک کے بارڈر بند ہونے سے ایل پی جی بحران کا خدشہ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے سبب ایران اور خلیجی ممالک کے بارڈر بند ہونے سے ایل پی جی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، اوگرا کی جانب سے مارچ کیلئے تاحال ایل پی جی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا جا سکا۔

ذرائع کے مطابق جنگ طویل ہونے سے ایل پی جی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، ملک بھر میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت 7 ہزار میٹرک ٹن تک جاتی ہے، صرف لاہور ریجن میں یومیہ 14 سو سے 15 سو میٹرک ٹن ایل پی جی استعمال ہوتی ہے۔

ایل پی جی کی لوکل پروڈکشن یومیہ 2 ہزار سے 22 سو میٹرک ٹن ہے، سرکاری طور پر ایل پی جی کا 3 سے 4 روز کا سٹاک موجود ہوتا ہے، نجی طور پر زیادہ دن تک سٹاک کرنے کی کپیسٹی موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق ایل پی جی گیس کی قلت کو جواز بنا کر مافیا پہلے ہی سرگرم ہے، سرکاری طور پر فروری کیلئے ایل پی جی کی قیمت 226 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی، شہر میں 300 سے 320 روپے فی کل گیس فروخت ہو رہی ہے۔

چیئرمین ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے کہا کہ جنگی صورتحال میں انرجی کرائسسز بڑھ جائے گا، ایل پی جی مافیا مصنوعی قلت پیدا کر کے بلیک مارکیٹنگ شروع کر دے گا، حکومت اس معاملے پر فوری تدابیر اختیار کرے۔

عرفان کھوکھر کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مانیٹرنگ کیلئے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو قیمت آسمان تک پہنچ جائے گی، حکومت قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سپیشل مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے۔

مزید خبریں

Back to top button