ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کے کوئی اشارے نہیں تھے، پینٹاگون کا اعتراف

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ معلومات موجود نہیں تھیں جن سے ظاہر ہو کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنے سب سے بڑے حملے کیے، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کرنے، ایرانی جنگی جہازوں کو ڈبونے اور اب تک ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کو دی گئی بریفنگ میں سامنے آنے والی باتوں نے جنگ کے حق میں پیش کیے گئے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہم مؤقف کو کمزور کر دیا، امریکا سینئر حکام نے ایک روز قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ جزوی طور پر ان اشاروں کی بنیاد پر کیا کہ ایرانی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر شاید پیشگی طور پر حملہ کر سکتے ہیں۔
پینٹاگون کے عہدیداروں نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی قومی سلامتی سے متعلق متعدد کمیٹیوں کے ڈیموکریٹ اور ریپبلکن عملے کو ایران میں جاری امریکی کارروائی پر 90 منٹ سے زائد بریفنگ دی اور کہا کہ ایسے کوئی اشارے نہیں تھے کہ ایران پہلے حملہ کرنے والا ہے۔
عہدیداروں نے زور دیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہ امریکی مفادات کے لیے فوری خطرہ ہیں، تاہم ایسی کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی کہ تہران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے والا تھا۔
بریفنگ میں ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر انتخابی جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور امن مذاکرات ترک کرنے کے ان کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں، جن کے بارے میں ثالثی کرنے والے ملک عمان نے کہا تھا کہ ان میں اب بھی پیش رفت کی امید موجود تھی۔
ٹرمپ نے بغیر ثبوت پیش کیے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران جلد ہی بیلسٹک میزائل کے ذریعے امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے والا تھا، امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے اس دعوے کی توثیق نہیں کی اور یہ بات مبالغہ آمیز معلوم ہوتی ہے۔



