یہ جنگ نہیں، شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، ترجمان وزیراعظم

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وزیرِاعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف باضابطہ اعلانِ جنگ کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم سرحد پار کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ اس پر مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ “یہ جنگ نہیں ہے، جنگ دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ہم اپنی سرزمین اور اپنے عوام کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف شدت پسندی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں اور افغانستان میں موجود عبوری طالبان حکومت پاکستان مخالف عناصر کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

اعتماد کی بحالی سے متعلق سوال پر مشرف زیدی نے کہا کہ “ہم اعتماد قائم نہیں کریں گے بلکہ آگ کی دیوار تعمیر کریں گے تاکہ اپنی سرزمین اور عوام کو محفوظ بنایا جا سکے۔” ان کا کہنا تھا کہ اعتماد بحال کرنے کی ذمہ داری افغان طالبان اور بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

وزیراعظم کے ترجمان نے اس موقع پر دوحہ معاہدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو معاہدے کی ان شقوں پر عمل کرنا ہوگا جن کے تحت افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

مشرف زیدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر افغان طالبان اپنی سرزمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانے ختم نہیں کرتے تو پاکستان یہ کام خود کرے گا، اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشتگرد گروہوں اور طالبان کے درمیان تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔

مزید خبریں

Back to top button