صوبائی وزیرعلی حسن زرداری کا اچانک ڈسٹرکٹ جیل ملیر کا دورہ، قیدیوں کی تعلیم، فنی تربیت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنیکی ہدایت

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات و ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری نے اچانک ڈسٹرکٹ جیل ملیر کا دورہ کیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ فریال تالپور کا وژن ہے کہ ملک کی جیلوں کو محض سزا کے مراکز کے بجائے اصلاح گھر میں تبدیل کیا جائے۔
قیدیوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو،فنی ہنر سکھانے کے پروگرام شروع کیے جا چکے ہیںبہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں،
انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے
قیادت کا مؤقف ہے کہ قیدیوں کی اصلاح اور بحالی کے بغیر معاشرتی امن ممکن نہیں، اس لیے جیلوں کو ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں سے نکلنے والا فرد ایک ذمہ دار اور کارآمد شہری بن سکے۔
اس موقع پر انہوں نے جیل میں موجود سہولیات، انتظامی نظم و ضبط اور قیدیوں کی حالتِ زار کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران صوبائی وزیر نے بیرکس، باورچی خانے، جیل اسپتال، ملاقات گاہ، پانی و نکاسیٔ آب کے نظام اور سیکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے خوراک کے معیار، صفائی ستھرائی اور طبی سہولیات پر خصوصی توجہ دی اور بعض شعبوں میں فوری بہتری کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔
علی حسن زرداری نے قیدیوں سے براہِ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ قیدیوں کی جانب سے طبی سہولیات، ملاقات کے نظام اور روزمرہ ضروریات سے متعلق شکایات اور تجاویز پیش کی گئیں، جن پر صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ حکومتِ سندھ کی اولین ترجیح ہے۔
صوبائی وزیر علی حسن زرداری نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے، صحت کی سہولیات کو مؤثر بنایا جائے اور سیکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جیلیں صرف سزا کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح اور بحالی کا مرکز ہونی چاہئیں، تاکہ قیدی رہائی کے بعد معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
دورے کے اختتام پر علی حسن زرداری نے کہا کہ حکومتِ سندھ جیلوں کے نظام کو شفاف، منصفانہ اور انسانی وقار کے مطابق بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے بھر کی جیلوں کے اچانک دورے جاری رہیں گے تاکہ اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے اور عوام کے اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے



