روزگار کیلئے بیرون ملک جانے والوں کی شرح میں 19 فیصد اضافہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزارت خزانہ کے مطابق روزگارکیلئے بیرون ملک جانے والوں کی شرح میں 19 فیصد اضافہ ہوگیا۔
وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جنوری میں 75 ہزار 663 ورکرز نے بیرونی ملازمت کیلئے رجسٹریشن کرائی، جنوری 2025 میں یہ تعداد 63 ہزار 559 ریکارڈ کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کی ترقی کے امکانات بہتر ہوئے ہیں، میکرو اکنامک استحکام، مہنگائی کے دباؤمیں کمی آئی ہے، عوام کی مددکیلئے 38 ارب روپے کا رمضان ریلیف پیکج دیا گیا۔
رواں ماہ مہنگائی 6 سے 7 فیصدکےدرمیان رہنےکا امکان ہے۔ جنوری 2026 میں ملک میں مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد تھی، جیو پولیٹکل غیر یقینی، اجناس کی عالمی قیمتوں میں اتار کا چڑھاؤ خطرہ قرار ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت کی آمدن اور اخراجات کا توازن بہتر ہوا ہے، مہنگائی کی طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی قابو میں رہا، ڈالر کے مقابلے روپےکی قدر مستحکم، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بینکوں کے سستے قرضوں سے کاروبار میں آسانی ہوئی۔ 6 ماہ میں بڑی صنتعوں کی پیداوار میں 4.8 فیصد بہتری آئی۔
رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی قابو میں رہا، ڈالر کے مقابلے روپےکی قدر مستحکم، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، بینکوں کے سستے قرضوں سے کاروبار میں آسانی ہوئی، 6 ماہ میں بڑی صنتعوں کی پیداوار میں 4.8 فیصد بہتری آئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے7ماہ میں ترسیلات زر میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، جولائی تا جنوری ترسیلات زر کا حجم 23.2 ارب ڈالر رہا، اس دوران ملکی برآمدات 5.5 فیصد کمی سے 8.3 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئیں، 7 ماہ میں درآمدات میں 9.8 فیصد اضافہ، حجم 36.7 فیصد رہا، جولائی تا جنوری کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری41 فیصد کمی سے 98 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 11.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16.2 ارب ڈالر ہوگئے، 6 ماہ میں ٹیکس ریونیو میں 10.5 فیصد اضافہ، حجم 7 ہزار 176 ارب روپے رہا۔ نان ٹیکس ریونیو میں 6.8 فیصد کمی آئی، حجم 3 ہزار 847 ارب روپے رہا۔
رپورٹ کے مطابق 6 ماہ میں پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے، فسکل بیلنس 542 ارب روپے رہا، اس دوران زرعی شعبے کو 11.4 فیصد اضافے سے 1411 ارب روپے قرضہ دیا گیا۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی، حجم 638 ارب روپے تک محدود رہا۔
سالانہ بنیاد پر پالیسی ریٹ 12 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد کی سطح پر آگیا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج 48 فیصد بہتری سے ایک لاکھ 68 ہزار 893 پوائنٹ ریکارڈ کیا گیا، نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 26 فیصد اضافہ، 25 ہزار 554 نئی رجسٹرڈ ہوئیں۔



