قومی مفادات پرہر پاکستانی اورہر سیاسی جماعت کو ایک ہی پیج پر ہونا چاہئے،بلاول بھٹو زرداری
پی پی پی چیئرمین کالاڑکانہ کے میئر انور لُہر کی جانب سے اپنے اعزاز میں افطار ڈنر سے خطاب

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کو درپیش چیلنجز کے خلاف پوری قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مفادات کے امور پر ہر پاکستانی اور ہر سیاسی جماعت کا ایک ہی پیج، ایک ہی چہرہ اور یک آواز ہونا چاہیے۔ انہوں نے کابل رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر ایک بار پھر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
پی پی پی چیئرمین نے لاڑکانہ کے میئر انور لُہر کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقد افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف جو بھی سازشیں پک رہی ہیں، ہم اُن کا مِل کر مقابلہ کرنے کیلیئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف خیبرپختونخوا سے لے کر بلوچستان میں دہشتگردی کی نئی لہر چل رہی ہے، تو دوسری جانب کبھی افغانستان کی بارڈر سے تو کبھی بھارت کے محاذ سے حملہ ہوتا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افغانستان کی انٹرم حکومت کی جانب سے پاکستان پر کیئے گئے حملے کا ہماری بہادر مسلح افواج نے بھرپور جواب دیا ہے اور دیتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اِن مشکل حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ موقف ہے اور پوری قوم کیلیئے یہ پیغام بھی ہے کہ اِس وقت ہم سب کو ایک یونائیٹڈ فرنٹ دکھانا چاہیئے، بلکہ حکومت کو قدم بڑھاکر تمام پولیٹیکل اسپیکٹرم کے نمائندوں اور اسٹیک ہولڈرز کو انگیج کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز ایک ایسی مناسب پالیسی تشکیل دیں گے کہ سب آپس کے اختلافات کو چھوڑ کر پاکستان کے اصل چیلنجز پر متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات تو ضرور رہیں گے، اور یہ مناسب وقت اور مناسب فورم پر چلتے رہیں گے۔ پی پی پی چیئرمین نے سندھ کے بلدیاتی نظام کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے، جہاں بلدیاتی نظام فعال اور بلدیاتی اداروں کے نمائندے سرگرم ہیں، اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں اس نظام کو زیادہ مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام مسلسل چلتا آرہا ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں صرف قانونسازی کرنا ہی بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ صوبہ کے خلاف جو مہم چلائی جاتی ہیں اور جو کردار کشی کی جاتی ہے، اس کے پیچھے مذموم مقاصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوشش کے پیچھے ایک سوچ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کراچی کو الگ کرنا اور صوبے کے وسائل پر بھی قابض ہونا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندے عوام خواہ وہ قومی سطح پر ہو، صوبائی سطح پر یا بلدیاتی سطح کی خدمت کر رہے ہیں اور ہر فورم پر عوام کے حقوق کی جدوجہد لڑ رہے ہیں، ان پر مجھے فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں جواب دینے کیلیئے تیار ہیں، اور ہم یہ جواب عوام کی عدالت میں، سیاسی میدان پر اور میڈیا کے محاذ پر تیار ہیں، لیکن وہ سازشی عناصر پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اور آئندہ بھی ہونگے۔



